The news is by your side.

Advertisement

ارنب گوسوامی کی بے ایمانی بے نقاب، اہم راز دار نے بھانڈا پھوڑ دیا

ٹی آر پی میں ردوبدل کرنے والے شخص نے کرپشن کی پوری داستان پولیس کو بیان کردی

ممبئی : بھارتی اینکر ارنب گوسوامی کے گرد گھیرا مزید تنگ ہوگیا، ٹارگٹ ریٹنگ پوائنٹ (ٹی آر پی)میں چھیڑ چھاڑ کرنے پر رشوت دینے کا معاملہ بے نقاب ہوگیا، بارک کے سربراہ نے اعتراف جرم کرلیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ٹی آر پی کے معاملے کے حوالے سے بھارتی اینکر اور ریپبلک ٹی وی کے ایڈیٹر اِن چیف ارنب گوسوامی کیخلاف ایک اور بیان سامنے آگیا۔

بارک کے سابق سی ای او پارتھو داس گپتا نے اپنے تحریری بیان میں ارنب سے بطور رشوت12 ہزار ڈالر ملنے اور پھر تین سال کے دوران مجموعی طور پر 40لاکھ روپے لینے کا اعتراف کیا ہے۔

تازہ ترین اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ بارک کے سابق چیف ایگزیکٹیو افسر پارتھو داس گپتا نے ممبئی پولیس کو دیئے گئے ایک تحریری بیان میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ارنب نے انہیں اپنے چینل کی ریٹنگ میں رد و بدل کرنے کے لیے لاکھوں روپے دیئے تھے۔

بھارت کے مقامی انگریزی روزنامہ میں اس حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ٹی آر پی میں ردو بدل کی یہ معلومات اس سپلیمنٹری چارج شیٹ سے ملی ہے جو کہ ٹی آر پی معاملہ میں پولیس کے ذریعہ داخل کی گئی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ممبئی پولیس نے 11 جنوری کو 3600 صفحات پر مبنی سپلیمنٹری چارج شیٹ داخل کی تھی جس میں بارک فورنسک آڈٹ رپورٹ بھی شامل تھی۔

علاوہ ازیں پارتھو داس گپتا اور ارنب گوسوامی کے درمیان ہونے والی گفتگو کی واٹس ایپ چیٹ بھی اس چارج شیٹ میں شامل ہے۔ چارج شیٹ میں بارک کے سابق ملازمین کے علاوہ کیبل آپریٹر سمیت کل 59 لوگوں کے بیانات شامل کیے گئے ہیں۔

انگریزی اخبار میں شائع خبر کے مطابق آڈٹ رپورٹ میں کئی نیوز چینل، مثلاً ریپبلک ٹی وی، ٹائمز ناؤ اور آج تک کے لیے بارک کے سرکردہ افسران کے ذریعہ مبینہ ٹی آر پی رد و بدل اور ریٹنگ کی فکسنگ کی بات کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق پارتھو داس گپتا، رومل رام گڑھیا، وکاس کھنچندانی کے خلاف سپلیمنٹری چارج شیٹ داخل ہوئی ہے، اس سے قبل 12 افراد کے خلاف نومبر میں چارج شیٹ داخل کی گئی تھی۔ دوسری چارج شیٹ کے مطابق داس گپتا کا بیان کرائم انٹلیجنس یونٹ نے9 دسمبر کو ریکارڈ کیا تھا۔

داس گپتا کے بیان کے مطابق میں ارنب گوسوامی کو سال 2004 سے جانتا ہوں۔ ہم ’ٹائمز ناؤ‘میں ایک ساتھ کام کیا کرتے تھے۔ میں نے بارک کے سی ای او کے طور پر2013 میں جوائن کیا تھا اور ارنب گوسوامی نے سال 2017 میں ریپبلک ٹی وی‘متعارف کرایا تھا۔

پارتھو داس گپتا نے بتایا کہ ریپبلک لانچ کرنے سے پہلے اس نے مجھ سے کئی بار اس منصوبہ کے لیے بات کی تھی اور ریٹنگ کے لیے مدد کرنے کا کہا تھا۔ گوسوامی کو پتہ تھا کہ مجھے معلوم ہے کہ ٹارگٹ ریٹنگ پوائنٹ (ٹی آر پی) سسٹم کیسے کام کرتا ہے۔

اپنے تحریری بیان میں داس گپتا نے مزید بتایا کہ میں اپنی ٹیم کے ساتھ کام کرتا تھا اور ٹی آر پی میں ردو بدل کرتا تھا، جس سے کہ ریپبلک ٹی وی‘کو نمبر ایک ریٹنگ مل سکے۔ یہ سلسلہ تقریباً 2017 سے 2019 تک جاری رہا۔ 2017 میں ارنب گوسوامی نے مجھے تقریباً 6000 ڈالر کیش دیئے۔

اس کے بعد 2019 میں بھی انہوں نے مجھے اتنی ہی رقم دی۔ سال 2017 میں بھی گوسوامی نے مجھ سے ملاقات کی اور مجھے 20 لاکھ روپے نقد دیئے۔2018 اور 2019 میں انہوں نے پھر مجھے20لاکھ روپے دیئے، داس گپتا کے مطابق گوسوامی نے جو 12 ہزار ڈالر انہیں دیئے تھے وہ فیملی ٹرپ کے نام پر دیئے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں