The news is by your side.

Advertisement

ارشد شریف کے خلاف مقدمہ درج کرانے والا جعل ساز نکلا

اے آر وائی کے دوصحافیوں ارشد شریف اور صابرشاکر کیخلاف مقدمات درج کرانے والا مدعی خود فراڈ اور اسمگلنگ کے مقدمات میں ملوث ہے۔

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ مٹیاری کا مدعی طیب حسین بھٹی جعلی وکیل، ایرانی ڈیزل چوری اور اسمگلنگ کے مقدمے میں ملوث نکلا جبکہ دادو کے مدعی عامرعلی لغاری کی مجرمانہ سرگرمیاں بھی سامنے آگئیں۔

ارشد شریف اور صابر شاکر کیخلاف اب تک درجنوں مقدمات درج ہوچکے ہیں۔ مذکورہ مقدمات میں صحافیوں پر اداروں کیخلاف نفرت انگیز ماحول پیدا کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ان مقدمات میں دفعہ ایک سواکتیس، ایک سوتریپن اور پانچ سوپانچ شامل کی گئی ہیں۔

موجودہ حکومت ہوگئی بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی، صحافیوں کیخلاف ایف آئی آر پر ایف آئی آرز درج کروائی جارہی ہیں، ارشد شریف اور صابر شاکر جنہوں نے سب سے پہلے پاکستان کا پرچم بلند کیا ان پر ہی اداروں کیخلاف نفرت پھیلانے کا الزام لگادیا گیا۔

ان پر ریاست مخالف باتیں کرنے کا بہتان تراشا گیا۔ شہید کے وارث اور ہمیشہ فرنٹ لائن پر جوانوں کے ساتھ رپورٹنگ کرنے والے ارشدشریف پر سینئرصحافی مطیع اللہ جان کے یوٹیوب چینل پر کی گئی گفتگو کو بنیاد بنا کر ایف آئی آرز کاٹی گئیں۔

۔ طیب حسین بھٹی نے حیدرآباد جبکہ ملیر کراچی میں عبدالرؤف نے مقدمہ درج کرایا جن میں دفعات131، 153اور 505 شامل کی گئی ہیں۔

صابرشاکر پر مہران پولیس اسٹیشن میرپورخاص میں محمود حسن نامی شخص کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔ ان پر بھی اپنے پروگرام میں پاکستان مخالف بیانیے کاالزام لگایا گیا ارشد شریف، صابرشاکر اور سمیع ابراہیم پر چمن میں نعمت اللہ اور پشین میں شہری محمد ایوب کی مدعیت میں مقدمات درج کرائےگئے۔

ان مقدمات میں تعزیرات ِپاکستان کی دفعات 34، 131، 153 499اور 505شامل کی گئی ہیں، دونوں مقدمات میں شامل دفعات ملک مخالف مہم چلانے، اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی سمیت اس جیسے دیگرجرائم سے متعلق ہیں۔

۔ مندرجہ بالا دفعات کے تحت ارشد شریف اور صابر شاکر پر دادو، مٹیاری اور کوئٹہ میں بھی کئی مقدمات درج کیے گئے ہیں، ان مقدمات میں کئیمدعیان کا مجرمانہ کردار بھی سامنے اگیا۔

اینکرارشد شریف پرمقدمہ کرنے والا طیب حسین بھٹی جعلی وکیل،ایرانی ڈیزل چوری اور اسمگلنگ کے مقدمے میں ملوث ہے، پولیس نےرنگے ہاتھوں پکڑ کرمقدمہ درج کیا تھا۔ دادو کے مدعی عامرعلی لغاری پربھی تھانہ اے سیکشن میں مقدمہ درج ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں