site
stats
پاکستان

ارشد وہرہ کو ڈپٹی میئر برقرار رکھ سکتے ہیں، مصطفیٰ کمال

کراچی: پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ارشد وہرہ استعفیٰ نہیں دیں گے، ہم سے اتنے لوگ رابطے کررہے ہیں کہ قانونی طور پر اپنا میئر لاسکتے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ارشد وہرہ کی شمولیت پر ایسی باتیں بنائی گئیں کہ جیسے انہیں جیل سے سیدھا اپنی پارٹی میں لایا ہوں، ڈپٹی میئر سمیت کئی لوگ ہمارے رابطے میں ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم قانونی طور پر ارشدوہرہ کو عہدے پر برقرار رکھیں گے۔

پی ایس پی سربراہ نے کہا کہ بلدیاتی نمائندے بڑی تعداد میں رابطے کررہے ہیں کہ ان ہاؤس تبدیلی کر کے اپنا میئر لاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے پاس جو مینڈیٹ ہے وہ بانی ایم کیو ایم کا دیا ہوا ہے، ارشد وہرہ بھی اُسی کے تحت ڈپٹی میئر بنے تھے مگر متحدہ پاکستان نے جو کھیل قوم کے ساتھ کھیلا اب ہم بھی وہی کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہمارے ساتھ شامل ہونے والے اراکین نے اسپیکر کو استعفے بھیجے مگر ایم کیو ایم نے ضمنی انتخابات میں اپنی شکست کو دیکھتے ہوئے اسپیکر کو منظور نہ کرنے کی درخواست کر رکھی ہے۔

مصطفیٰ کمال نے ایک موقع پر یہ بھی کہا کہ متحدہ پاکستان کو اسٹیبلشمنٹ نے کھڑا کیا، 22 اگست کے بعد کیا کچھ ہوا وہ سب نے دیکھا اور جس طرح فاروق ستار نے حراست سے واپس آکر قوم سے جھوٹ بولا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ 23 اگست کو سابق گورنر عشرت العباد نے انیس قائم خانی سے رابطہ کر کے کہا کہ فاروق ستار گرفتار ہیں انہیں میں رہا کروا رہا ہوں، آپ اور فاروق ستار مل کر کام کریں، عشرت العباد سیاسی پارٹی میں آنے کے خواہش مند تھے مگر ہم نے انہیں سیاست نہیں کرنے دی۔

پی ایس پی کے سربراہ نے مزید کہا کہ فاروق ستار میری ایک پریس کانفرنس کی مار ہیں، جس دن بھی قوم کو حقائق بتاؤں گا وہ کہیں نظر نہیں آئیں گے، 22 اگست کے روز جب بانی ایم کیو ایم نے شہر میں آگ لگوائی اور اے آر وائی پر حملہ کروایا تو فاروق ستار نے کچھ نہیں بولا کیونکہ وہ کمزور آدمی ہیں اس لیے سب لندن سے اپنے روابط بیان نہیں کررہے۔

واضح رہے کہ اتوار کے روز ڈپٹی میئر کراچی ارشد وہرہ نے پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت کرتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

ویڈیو دیکھیں


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top