The news is by your side.

Advertisement

چینی کی بڑھتی قیمتیں اور مصنوعی قلت، شوگر مافیا کیخلاف کارروائی

گوجرانوالہ : ضلعی انتظامیہ نے چینی کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنرز، پرائس مجسٹریٹس نے مارکیٹوں میں چھاپہ مار کارروائی کی اور چینی کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والے 14 ہول سیل ڈیلرز کے خلاف مقدمات درج کیے۔

کارروائیوں کے دوران چینی کی مصنوعی قلت پیدا کرنے میں ملوث افراد پر دو لاکھ دس ہزار روپے جرمانے بھی کیے گئے جب کہ مہنگی چینی فروخت کرنے پر 8 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔

پرائس مجسٹریٹ نے چینی کی بلیک میں فروخت پر 10 ہول سیل ڈیلرز کے گودام اور کریانہ اسٹورز کو سیل کیا، اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ کا کہنا تھا کہ ناجائز ذخیرہ شدہ چینی کو قانون کے مطابق ضبط کیا جائے گا۔

اس سے قبل انتظامیہ نے بہاولنگر میں 77 مقامات پر چھاپے مار ر 7941 بوری چینی برآمد کی اور 13 گودام کو سیل کرکے 11 افراد کو گرفتار کیا اور 10 مقدمات درج کیے تھے۔

فیصل آباد میں شوگر ملز کا گودام سیل کرکے انتظامیہ نے 44 ہزار چینی کی بوریاں ضبط کی تھیں جب کہ چیچہ وطنی میں 99، رینالہ خورد میں 413 بوری چینی برآمد کی۔

انتظامیہ نے پنجاب کے شہر جھنگ میں مہنگی چینی فروخت کرنے والے پانچ دکانداروں کو گرفتار کرکے ان پر جرمانے بھی عائد کیے۔

خیال رہے کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد لاہور کی تھوک مارکیٹ اکبری منڈی میں چینی ناپید ہوچکی ہے جب کہ پرچون مارکیٹس میں چینی 150 روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے۔

فیصل آباد کی صورتحال بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے، فیصل آباد میں چینی کے نرخ 160 روپے تک پہنچ گئے ہیں، کوئٹہ میں فی کلو چینی 165 روپے فی کلو جب کہ کراچی اور سکھر میں 140 روپے فی کلو میں فروخت ہورہی ہے۔

حکومتی نمائندوں کا تبصرہ:

چینی کی قیمتوں اور مصنوعی قلت سے متعلق ترجمان وزارت خزانہ نے کہا کہ چینی وفاقی نہیں بلکہ صوبائی سبجیکٹ ہے، سندھ میں شوگر ملزم چل رہی ہیں نہ وفاق سے چینی لی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چینی پر سیاست کی جارہی ہے، آٹھ دس دن کا کھیل ہے اس کے بعد چینی کا مسئلہ حل ہونے والا ہے۔

مہنگی چینی اور قلت کے تناظر میں ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور کا کہنا تھا کہ پنجاب شوگر ملزم 15 نومبر سے چل جائیں گی، تاحال حکومت کے پاس 22 دن کا اسٹاک موجود ہے۔

انہوں نے سندھ کابینہ پر چینی کی مصنوعی قلت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ چینی کی شارٹیج نہیں بلکہ وافر اسٹاک موجود ہے، چینی پر سیاست کی جارہی ہے اور کرشنگ شیزن لیٹ کرکے سندھ مصنوعی بحران پیدا کررہا ہے۔

صوبائی وزیر سعید غنی نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ چینی بحران وفاقی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ہے، بحران کا ذمہ دار سندھ کو ٹھہرانا وزیر اعظم کی کم علمی ہے کیوں کہ 32 فیصد شوگر ملز پی ٹی آئی سے متعلقہ افراد کی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں