The news is by your side.

Advertisement

‏’اے آر وائی اور پی ٹی وی میں معاہدہ پیپرا رولز کے مطابق ہوا’‏

لاہور ہائی کورٹ نے پی ایس ایل میڈیا رائٹس کے لیے اے آر وائی اور پی ٹی وی کے جوائنٹ وینچر کے خلاف ‏درخواست کی سماعت ۔ اے آروائی ، پی سی بی اور پی ٹی وی کی جانب سے جواب جمع، جیو کے وکیل نے جواب ‏الجواب کے لیے مہلت مانگ لی۔ ‏

جسٹس شاہد وحید نے کیس کی سماعت کی تو اےآر وائی کی جانب سے اعتزاز احسن اور پی سی بی کی جانب ‏سے تفصل رضوی اور پی ٹی وی کی جانب سے احمد پنسوتا نے جوابات جمع کروائے ۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ‏اس کا جواب جمع کروانا چاہتے ہیں یا بحث کرنا چاہتے ہیں جس پر جیو کے وکیل نے استدعا کی کہ وہ جوابات ‏پڑھ کر جواب داخل کروائیں گے لہذا مہلت دی جائے جس پر عدالت نے سماعت انیس جنوری تک ملتوی کر دی۔

پی ٹی وی کی جانب سے جواب میں کہا گیا کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہے جبکہ جی آر سی کا فورم ‏موجود ہے براہ راست درخواست دائر نہیں کی جاسکتی ۔پی ٹی وی کا کہنا ہے کہ اے آر وائی اور پی ٹی وی میـں ‏معائدہ پیپرا رولز کے مطابق کیا گیا ہے ۔ پی ٹی وی نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت بولیاں طلب کیں ‏جس کے لیے ایکسپریشن اور اینٹرسٹ اور اڈینڈم سمیت پیپرا رولز کو فالو کیا گیا۔

پیپرا رولز کے مطابق معائدے کے لیے پندرہ روز کا وقت دیا گیا جس کے بعد اےآر وائی سے معائدہ طے پایا ۔ ‏جیو نے بدنیتی سے درخواست دائر کی جب وہ جوائنٹ وینچر کے پراسیس میں پراسیس میں شریک نہیں ہوا ‏درخواست گزار نے پی ٹی وی کو بدنام کرنے کے لیے درخواست دائر کی جبکہ معائدے میں تمام قوانین کو مدنظر ‏رکھا گیا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت درخواستیں مختلف پارٹیز نے جمع کروائی گئیں جن میں درخواست ‏گزار شامل نہیں تھا۔

اے آر وائی کو قانونی ضوابط پورے کرنے کے بعد منتخب کیا گیا جس کی بورڈ سے بااقاعدہ اجازت لی گئی ۔پی ‏سی بی نے جواب میں کہا کہ اے آر وائی اور پی ٹی وی کے کنسورشیم نے سب سے زیادہ بولی دی اور اسے پی ‏ایس ایل براڈ کاسٹنگ کا معائدہ کیا گیا ۔ اب واضح ہے کہ درخواست گزار نے ناکامی کےبعد غیرضروری رکاوٹ ‏ڈالنے کے لیے درخواست دائر کی ۔ بڈنگ کا عمل اوپن تھا جس میں جیو سمیت تمام فریقین نے اسے جاری ‏رکھنے پر رضامندی ظاہر کی ۔افسوسناک عمل ہے کہ اوپن بڈنگ میں ہارنے کے بعد اب جیو قانون کو غلط ‏استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

پی سی بی کے مطابق بادی النظر میں ٹرانسپرنسی انٹرنیشل نے بھی کچھ شکایات پر ایک خط لکھا جب کہ ‏شکایت کنندگان کے نام آج تک سامنے نہیں لائے گئے ۔ یہ خط کیس سے متعلقہ نہیں ہے ۔پی ایس ایل ستائیس ‏کو شروع ہو رہا ہے اب وقت ہی نہی کہ براڈ کاسٹر کو تبدیل کیا جاسکے اور اکے لیے تمام انتظمات کیے جاسکیں۔ ‏پی سی بی کا کہنا ہے ک جیو نے جان بوجھ کر دو ہفتے انتظار کرنے کے بعد ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ ‏

ان دو ہفتوں کے دوران جیونے پی سی بی کے خلاف ایک میڈیا کمپین شروع کیے رکھی تاکہ اسے ہراساں کیا ‏جاسکے ۔ اے آر وائی کی جانب سے جواب میں کہا گیا کہ پی ایس ایل ایشیا میں کرکٹ کا ایک بڑا برانڈ ہے جس ‏میں انٹرنیشل کرکٹر شرکت کر رہے ہیں ۔ جیو نے خود کو پی ٹی وی کی بڈ میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی اور ‏تمام پراسیس سے باہر رہا ۔جوائنٹ وینچر کے لیے اے آر وائی کی نولی کو کامیاب قرار دے کر معائدہ کیا گیا۔ ‏معاہدے میں دلچسپی نہ لینے کے باوجود اب جیو اسے ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس سے پاکستان کا فخر ‏پی ایس ایل کو سخت نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

اے آر وائی کے مطابق جیو غلط حقائق بتا کر کورٹ کو ‏گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔جوائنٹ وینچر کےلیے بولی دینے والی کسی بھی پارٹی نے اے آر وائی سے ‏معائدے کو چیلنج نہیں کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معائدہ شفاف اور قاون کے مطابق ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں