The news is by your side.

Advertisement

شام میں بمباری، اے آر وائی کی ٹیم متاثرہ بچوں سے ملنے پہنچ گئی

دمشق: اے آر وائی نیوز  کے پروگرام سرعام کے اینکر اور سینئر صحافی اقرار الحسن شام کی تباہ کاریوں کے حقائق عالمی دنیا تک پہنچانے اور مسلمانوں کی مدد کے لیے جنگ زدہ علاقے میں پہنچ گئے۔

تفصیلات کے مطابق اے آر وائی نیوز کے مشہور پروگرام سرعام کے معروف اینکر اقرار الحسن نے ایک بار پھر نئی تاریخ رقم کی اور وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ شامی فوج کی وحشیانہ بمباری سے یتیم ہونے والے بچوں کے پاس پہنچے۔

اقرار الحسن نے اے آر وائی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم اس وقت شام کے سرحدی صوبے حطائے کے قصبے کرک خان میں موجود ہیں، یہاں وحشیانہ بمباری سے بچ جانے والے شامی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد بچوں کے ہمراہ کیمپوں میں پہنچی ہے۔

مزید پڑھیں: شام کے شہرغوطہ میں بمباری،جاں بحق افراد کی تعداد 800 سے زائد ہوگئی

انہوں نے بتایا کہ مہاجر کیمپ میں چار ایسی بہنیں موجود ہیں جن کے والد ہنس نامی علاقے میں فوجی بمباری کے بعد لاپتہ ہوئے جن کے بارے میں تاحال کوئی علم نہیں ہے، بچیوں اور اُن کی والدہ نے دیگر مظلوم شامیوں کے ساتھ یتیم خانے میں پناہ لی ہوئی ہے۔

اقرار الحسن کا کہنا تھا کہ بمباری کے بعد نظر آنے والی خون آلود لاشیں تباہ شدہ املاک تو صرف آغاز ہیں، ہمارا اصل مقصد زندہ بچ جانے والوں کو ان کی زندگیوں میں واپس لانا ہے تو اس کے لیے ہر شخص کو اپنے معتبر ذرائع سے ان بچوں اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لیے اے آر وائی نیوز کی ٹیم میانمار پہنچ گئی

سرعام کے اینکر نے بتایا کہ جب لوگوں کو اس بات کا علم ہوا کہ اے آر وائی شام کے مظلوم مسلمانوں کی آواز بننے جارہا ہے تو بہت سارے لوگوں نے تعاون کی درخواست کی۔ اقرار الحسن نے شامی بچوں میں تحائف تقسیم کیے اور مظلوم بچوں کے ساتھ کچھ کھیل بھی کھیلے۔

 یاد رہے کہ اقرار الحسن گزشتہ برس میانمار میں ہونے والے فوجی آپریشن کی حقیقت دنیا کو دکھانے اور مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے برما بھی پہنچے تھے اور انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقاتیں بھی کی تھیں تاہم برما کی حکومت نے اے آر وائی کی ٹیم کو  اصل حقائق کی کوریج کرنے پر ملک بدر کردیا


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں