The news is by your side.

Advertisement

اسد عمر نے اپوزیشن کے جلسوں کے حوالے سے حکومتی پالیسی واضح کر دی

لاہور : وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نےاپوزیشن کے جلسوں کے حوالے سے اسد عمر نے حکومتی پالیسی واضح کر دی اور کہا ہمارے سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کے جلسے نہ کئے جائیں۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا حکومت عوام کی زندگی بہترکرنےکیلئے اپنے کام میں لگی ہوئی ہے، اپوزیشن قانون کےدائرے میں رہ کرجو مرضی کرے۔

اسدعمر کا کہنا تھا کہ ہماری قانون کی پاسداری کی پالیسی ہے، یہ نہیں ہونا چاہیے جمہوریت کے نام پر قانون توڑیں، ہماری جمہوری پارٹی ہے،عثمان بزدار کا قلعہ مضبوط ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اتنا بندہ اکھٹا کرتا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی نے نہیں دیکھا، ان کو اس وقت کے حکمران روک ہی نہیں سکتے تھے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کورونا کے معاملے پر صوبوں کے تعاون سے کام کر رہے ہیں، این سی او سی میں کورونا کے معاملے پر این سی سی کی میٹنگ بلا کر ضابطہ اخلاق طے کرنے کا فیصلہ ہوا ہے، ہمارے سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کے جلسے نہ کیئے جائیں ۔

انھوں نے کہا کورونا میں ہر چیز کیلئے ضابطہ اخلاق پہلے بنایا گیا ہے، بڑے اجتماعات کے حوالے سے ایس او پیز بھی طے ہونے چاہیں، قومی رابطہ کمیٹی میں معاملہ زیر غور آئے گا۔

یاد رہے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے ملک بھر میں کرونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر نئی گائیڈ لائنز جاری کیں تھیں، گائیڈ لائنز میں کہا گیا تھا کہ عوامی اجتماعات کرونا میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں لہذا ایسے پروگراموں کے انعقاد سے ہر ممکن گریز کیا جائے، بڑے اجتماعات کےانعقادکوروکنے پرغور کیا جارہا ہے ۔

این سی او سی کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ’دنیا بھر میں بڑے عوامی اجتماعات پر پابندی عائد ہے کیونکہ ایسے پروگرام کرونا کے بڑے خطرے کا سبب ہیں، انتہائی ضروری اجتماعات ایس او پیز کے ساتھ منعقد کیے جائیں‘۔

این سی او سی کا کہنا تھا ’عوامی اجتماعات سے کرونا سمیت دیگر بیماریوں کے پھیلاؤ کا امکان ہے، ایسے اجتماعات سے کرونا کے خلاف قومی کامیابی خطرے میں پڑ سکتی ہے، ایسے پروگراموں کا انعقاد کسی صورت نہیں ہونا چاہیے‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں