The news is by your side.

Advertisement

مہنگائی ملکی نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے، اسد عمر نے قیمتوں کا موازنہ پیش کردیا

اسلام آباد : وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ مہنگائی ملکی نہیں،عالمی مسئلہ ہے، پیٹرولیم میں اربوں روپے کا ریلیف دیا، دنیامیں کروڈ آئل 81 فیصد جبکہ پاکستان میں17 فیصد مہنگا ہوا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے تفصیلی میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کاذکر پوری دنیا میں ہورہا ہے، دنیا میں غیرمعمولی صورتحال پیدا ہوئی ہے، ماہرین غورکررہےہیں کہ عالمی سطح پرقیمتیں کب معمول پرآئیں گی۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ دنیا نے کورونا کی آفت کا سامنا کیا، کورونا کے آغاز پر دنیا ایک دم سے بند ہوگئی ، عالمی سطح پر چیزوں کی طلب میں کم پیدا ہوئی، کورونا کے ساتھ دنیا میں چیزوں کی قیمتیں نیچی آئیں، ہماری اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی کو دنیا نے سراہا، ہم نے ضروری صنعتوں کو سب سے پہلے کھولا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا میں بندشیں لگیں اورمعیشتیں بیٹھ گئیں، دنیا میں معیشتیں سکڑنےسے اشیائے ضروری کی ترسیل کا نظام شدید متاثر ہوا اور طلب بڑھنے پر دنیا میں اشیا کی قلت نظر آنےلگی۔

انھوں نے قیمتوں کا موزانہ کرتے ہوئے کہا کہ چیزوں کی قیمتوں میں پوری دنیامیں اضافہ ہوا، گزشتہ دنیا میں کروڈآئل کی قیمت81.55 فیصد کا اضافہ ہوا، اسی دوران ہمارے ہاں تیل کی قیمتوں میں 17.5فیصد بڑھیں ، ایل این کی قیمت میں 64 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ ہماری نسبت دنیا میں گیس کی قیمت میں ساڑھے 8 گنا اضافہ ہوا، عالمی منڈی میں یوریا کی قیمت 67 اور پاکستان میں 28 فیصد بڑھی، اکتوبر کے وسط تک بیشتر اشیائے ضروری کی قیمتیں بھارت میں زیادہ ہیں۔
.
وفاقی وزیر نے بتایا کہ پیٹرولیم پر 17 فیصد سیلز ٹیکس کم کر کے 6.7 فیصد کر دیا گیا ہے، 30روپے لیوی کم کرکے 5.60 روپے کردی گئی ، پیٹرولیم ڈیولمپنٹ لیوی میں 25 روپے کی کمی کی گئی، پیٹرول پرکسٹم ڈیوٹی 9 روپے 27 پیسے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کابڑھناملکی نہیں عالمی مسئلہ ہے، پیٹرولیم پر حکومت کے اختیار میں ٹیکس کی شرح کا تعین ہے، حکومت پیٹرولیم پر جتنا ریلیف دے سکتی تھی وہ دیا، کچھ ماہ کے دوران صفرپی ڈی ایل لیاگیا، مجموعی طور پر دیکھیں تو پیٹرولیم میں اربوں روپے کا ریلیف دیا گیا۔

اسد عمر نے مزید کہا کہ تیل پر سیلز ٹیکس کم ، فی ٹن ڈیوٹی بھی آدھی کردی گئی ہے، خوردنی تیل کی قیمت میں 40 سے 50روپے تک کمی آئے گی، گندم کی فی من قیمت میں 1400سے 1800کااضافہ کیا گیا، گندم کی فی من قیمت میں اضافے سے بڑی آبادی کو فائدہ پہنچا۔

گندم کی قیمتوں کے حوالے سے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پنجاب اورسندھ اپنی ضروریات سے زائد گندم پیدا کرتے ہیں، پنجاب اورسندھ میں 20 کلو آٹے کی قیمت میں 290 روپے کا فرق ہے، اگرسندھ میں گندم جلد ریلیزکی جائے تو آٹے کی قیمت پر فرق پڑے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ احساس پروگرام مشکل وقت میں بہت اہمیت اختیارکرگیا، 3سال قبل بی آئی ایس پی 121 ارب کا تھا، جوآج 260 ارب کر دیا گیا ہے، ٹارگٹڈ سبسڈی سے متعلق پروگرام تیار ہے، امید ہے چند دنوں میں وزیراعظم ٹارگٹڈ سبسڈی پروگرام کی تفصیل سے آگاہ کریں گے۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ ماہرین کی عمومی رائے ہے کہ مارچ سے اشیائے ضروری کی قیمتوں میں کمی آئے گی، عام طور پر نہ مانیں یا دیرکریں توتوآئی ایم ایف کے شرائط اورسخت کر دیتا ہے، ہمارے فیصلوں کی وجہ سے آئی ایم ایف نے شرائط میں کمی کر دی تھی ، ہمارا مالیاتی خسارہ بڑھنےکی سب سے بڑھی وجہ عالمی قیمتیں بڑھنا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں