The news is by your side.

Advertisement

پاکستانی ٹیکس گزاروں نے 74 ارب ڈالر غیرملکی قرضہ ادا کرنا ہے، اسد عمر

پاکستانی ٹیکس گزاروں نے

اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ گردشی قرضے ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج ہیں، بیرونی قرضوں کی وجہ سے معاشی ترقی متاثر ہورہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی قرضہ بڑھنے سے معیشت پر اثرات مرتب ہوئے ہیں، 74 ارب ڈالر پاکستانی ٹیکس گزاروں نے غیرملکی قرضہ ادا کرنا ہے، دو سے تین سال میں تجارتی قرضوں کی شرح میں واضح کمی آجائے گی۔

پورے خطے میں امن ہوگا تو سی پیک کے اصل ثمرات ملیں گے

اسد عمر

اسد عمر نے کہا کہ ہمارا ریلوے کا نظام آہستہ آہستہ خرابی کی طرف جاتا رہا، سی پیک کے تحت پاکستان پر 4.9 ارب ڈالر قرض ہے، پاکستان کو منصوبے سے فنانسنگ اور انفرا اسٹرکچر منصوبوں میں سرمایہ کاری ملی، معیشت پر اس بوجھ کا تعلق سی پیک سے نہیں ہے۔

وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ چین کے قرضوں پر شرح سود صرف 2.34 فیصد ہے، سی پیک کے پہلے مرحلے میں روڈ انفرا اسٹرکچر پر سرمایہ کاری کی گئی، سی پیک کے تحت پہلا اقتصادی زون رشکئی میں جلد بننے جارہا ہے، خصوصی اقتصادی زون سے روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کا انتہائی قریبی دیرینہ ساتھی ہے، دنیا کے ممالک کے ساتھ ہم بہترین تعلقات چاہتے ہیں، ہم تو چاہتے ہیں امریکا سے انویسٹمنٹ آئے، سی پیک کے پراجیکٹ میں ہم نے تھرڈ پارٹی کی بات کی تھی، چین نے کہا یہ تو بہت اچھا ہوگا، ہم چاہتے ہیں افغانستان میں امن آئے، ایران اور امریکا کے تعلقات بہتری کی طرف جائیں، پورے خطے میں امن ہوگا تو سی پیک کے اصل ثمرات ملیں گے۔

سی پیک کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی جارہی ہے

اسد عمر

اسد عمر نے کہا کہ امریکی نائب وزیر خارجہ کا سی پیک سے متعلق تجزیہ درست نہیں ہے، دوست ملکوں کے ساتھ تعلقات کسی کے کہنے پر خراب نہیں کرسکتے، سی پیک کے اصل ثمرات خطے میں قیام امن کے بعد ملیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی جارہی ہے، چین نے مشکل ترین حالات میں پاکستان کی مدد کی، ہم موقف دے چکے ہیں سی پیک سرمایہ کاری ہے امداد نہیں ہے، حکومت کا موقف ہے ہمیں امداد کا کوئی فائدہ نہیں ہے، سی پیک سے پاکستان اور چین دونوں کو فائدہ ہوا، چینی کمپنیوں کو کاروبار ملا اور پاکستان کو انفرا اسٹرکچر ملا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں