The news is by your side.

Advertisement

عوام احتیاط جاری رکھیں، حکومت کورونا ویکسین کے لئے بھاگ دوڑ میں لگی ہوئی ہے، اسد عمر

اسلام آباد : نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا کی دوسری لہر پہلی لہرسے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہورہی ہے ، میں لوگوں  سے اپیل کروں گا مزید احتیاط جاری رکھیں، حکومت ویکسین کے لئے بھاگ دوڑمیں لگی ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے سربراہ اور وفاقی وزیر اسد عمر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کورونا صورتحال میں مشورے دیے جارہے تھے، مزید سختی کی جائے، کہا جارہا تھا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف نہ جایا جائے۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ ادارہ شماریات نے پاکستان کے حوالے سے سروے کیا، جس میں بتایا گیا کہ ساڑھے 5 کروڑلوگ معاوضے کی غرض سے روزگار کیلئے کام کرتےہیں، بہت بڑی تعداد گھریلو خواتین مردوں سے زیادہ محنت کرتی ہیں، کورونا وبا پھیلی ،فیصلہ کیا گیا کہ لاک ڈاؤن کیا جائے، زیادہ تر کاروباری سرگرمیوں پربندشیں لگیں، 2 کروڑسے زائد لوگ کہتے ہیں کورونا کے دوران انکا روزگار چھن گیا۔

سربراہ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر نے کہا کورونا کی پہلی وبا میں ساڑھے5کروڑمیں سے 2 کروڑ لوگوں کا روزگار ختم ہوا، وزیراعظم کی ہدایت تھی ہم نے فیصلے صحت اور لوگوں کاروزگار دیکھتے ہوئےکرنےہیں، پائلٹ پراجیکٹ،ٹیسٹنگ،قرنطینہ نظام10اپریل کوشروع ہواتھا جبکہ 24 اپریل سے پاکستان میں فل آپریشن شروع ہوچکا تھا۔

کورونا کی پہلی وبا کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کورونا کے باعث چند ہفتوں میں فیصلے ہوئے، پھر بندشیں ہٹاتے چلے گئے، ہم صورتحال دیکھ کرملک سے کاروباری سیکٹرز کو کھولتے چلے گئے ، تقریباً تمام لوگ اکتوبر تک روزگارمیں واپس آچکے تھے جبکہ کورونا کے دوران تعمیرات میں تیزی سےاضافہ ہوا۔

اسد عمر نے کہا ہمسایہ ملک بھارت میں کروڑوں لوگ بے روزگارہوگئے، طاقتور ممالک میں دیکھاکروڑوں لوگ نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، اوباما چیف ایڈوائزر نے کہا امریکا پاکستان کی طرح فیصلے کرتا تو نقصان سےبچ جاتا۔

وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ ایسےلوگ جو ٹھیلہ یا کھوکا لگاتے ہیں وہ دیہاڑی دار لوگ تھے، وزیراعظم عمران خان کو ایسے لوگوں کی بڑی فکرتھی، سب سے پہلے ہم نے صنعتیں اورتعمیرات کاسیکٹرکھولا، تعمیرات میں تقریباً80 فیصد لوگوں کاروزگار بند ہوگیا تھا، تعمیرات فوری طورپرکھولنے کا فیصلہ نہ کیا جاتا تو مشکل ہو جاتا، ٹرانسپورٹ پربھی صوبوں سےبحث ہوئی، 70فیصدلوگ ٹرانسپورٹ میں ملازمت کرتےہیں۔

سربراہ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر نے کہا کہ 54فیصدلوگ کہتے ہیں کھانے پینے کی اشیا کے علاوہ باقی خریداری کم کردی، 50فیصد لوگ کہتےہیں نسبتاً کھانے کی سستی چیزخریدنا شروع کردیں، کورونا کے دوران مخیرحضرات علاقوں میں کھانے پینے کا سامان پہنچارہے تھے، کوئی بھوک سے نہیں مررہا مگر گزارے کیلئے زندگی کی جمع پونجی خرچ کررہا ہے، 47فیصد لوگوں نے کہا انہیں اپنی جمع پونجی استعمال کرنا پڑی یا کچھ بیچنا پڑگیا، 30 فیصد لوگوں نے رشتےداروں اور دوستوں سے قرضہ لیکرگزارا کیا، بروقت فیصلے نہ کیے جاتے تو مشکلات میں انتہائی حد تک اضافہ ہوسکتاتھا۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نےپہلےدن سے کہا کہ ذمہ داری ایک نہیں دوہیں، لوگوں کےجان ،روزگار کو بحال کرنےکیلئے کام کرنا ہے، بل گیٹس ،یواین صدر ہوں یا ڈبلیوایف اوسب نے پاکستان کی تعریف کی۔

کورونا کی دوسری لہر سے متعلق انھوں نے کہا کہ آج کل برطانیہ یا دوسرےممالک میں جتنےکیسز ہیں شاید 2020میں بھی نہ تھے، کورونا کی دوسری لہرپہلی لہرسےبھی زیادہ خطرناک ثابت ہورہی ہے، نومبرکے آخری ہفتےمیں جب کیسزمیں تیزی نظرآئی تو فیصلے کئے گئے، فیصلہ کیا ان ایریازکولاک ڈاؤن کریں جہاں کیسزبڑھ رہےہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کےاسپتالوں میں روزانہ نئےمریض کوروناکی وجہ سےآرہےتھے، دسمبرکے پہلے ہفتے میں کورونا کے مریض تیزی سے آنا شروع ہوئی، دسمبرکے دوسرے ہفتے میں کورونا کے مریض آکسیجن پرمنتقل ہوئے، دوسرے ہفتےمیں 313مریض وینٹی لیٹر پر تھے۔

سربراہ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر نے بتایا کہ نومبرکےآخری ہفتےمیں بندشوں کےفیصلےکیےگئے، دسمبرکے پہلے ہفتےمیں دوسری لہرمیں تیزی سے اضافہ ہوا، دسمبرکےدوسرے ہفتے میں کیسزمیں کمی آناشروع ہوگئی، حکومت نےبروقت فیصلے کئے میڈیا نے آگاہی میں بھرپور مدد کی ، میں لوگوں سے اپیل کروں گا مزید احتیاط جاری رکھیں۔

کورونا ویکسین کے حوالے سے اسد عمر نے کہا کہ حکومت ویکسین کے لئے بھاگ دوڑمیں لگی ہوئی ہے، چین سے ویکسین کے حوالے سے بات چیت شروع ہوگئی ، فرنٹ لائن ورکرز کیلئے جلد از جلد ویکسین آجائے گی تاہم ویکسین آنے کچھ وقت لگے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں