The news is by your side.

Advertisement

مذاکراتی کمیٹی کا اعلان کریں بات چیت ہوسکتی ہے، اسد عمر

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ وزیراعظم مذاکراتی کمیٹی کا اعلان کریں بات چیت ہوسکتی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے وزیراعظم کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم مذاکراتی کمیٹی کا اعلان کریں بات چیت ہوسکتی ہے، الیکشن کب کرانا ہے یہ مذاکرات کا بنیادی حصہ ہوگا لیکن پہلے تو یہ طے ہو کہ جلد الیکشن کی بات ہو رہی ہے، نظر آرہا ہے کہ نظام چل نہیں سکتا تو اسے مزید نہ گھسیٹیں،

پی ٹی آئی رہنما اور سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے وہئے کہا بات چیت اس پر ہوگی کہ الیکشن کب کرانا ہے، شہباز شریف اگلے انتخابات کی تاریخ کے ساتھ مذاکراتی کمیٹی کا اعلان کریں۔

اسد عمر نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بار پاکستان میں اتنی بڑی سیاسی موبلائزیشن ہوئی، رکاوٹوں کے باوجود لوگ پیچھے نہیں ہٹ رہے تھے، حکومت کمیٹی بنادے، پہلی بات یہی ہوگی کہ الیکشن کب کرنے ہیں، حکومت کا کوئی اور ایجنڈا ہے تو اس پر بھی بات ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستانی شہری کا درد رکھتے ہیں، وہ پاکستان کےاداروں کا خیال رکھنا چاہتے ہیں، سپریم کورٹ کا بالکل آخری وقت میں فیصلہ آیا حکومت نے پابندی نہیں کی۔

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو ہر گزرتے دن کے ساتھ نقصان ہورہا ہے، ماہرین کہہ رہے ہیں کہ سری لنکا جیسی صورتحال کی بات ہفتوں کی ہے۔

اسد عمر نے قومی اسمبلی سے اوورسیز اور نیب قوانین میں ترامیم سے متعلق بلوں کی منظوری پر کہا کہ اوورسیز پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں، اوورسیز کے بنیادی حق پر رولنگ بھی موجود ہے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے حق چھین لینا انتہائی افسوسناک بات ہے۔

انہوں نے کہا نیب قوانین پر بھی ہماری پوزیشن واضح ہے کہ ہمارے خیال میں نیب قوانین میں ترامیم کی ضرورت تھی اور اس کیلیے ہم نے قانون سازی بھی کی تھی تاہم پی ڈی ایم نے ذاتی مفاد کی خاطر نیب قوانین میں ترامیم کی ہیں لیکن نیب قانون میں جو ترامیم کی گئی ہیں وہ تبدیل بھی کی جاسکتی ہیں، واضح اختلاف ہے کہ احتساب کے قانون میں خلیج پایا جاتا ہے ۔

Comments

یہ بھی پڑھیں