The news is by your side.

Advertisement

انسان کی طلب اور اس کی ترجیحات کب بدلتی ہیں؟

انسانوں کا اپنے ہم جنسوں یا فطرت سے عشق اور محبّت کا اظہار فطری امر ہے۔ یہ ایک آفاقی جذبہ ہے جسے فنونِ‌ لطیفہ اور خاص طور پر ادب کا موضوع بنایا جاتا ہے۔

اردو نثر اور شاعری میں عشق کو بہت اہمیت حاصل ہے اور ادبا و شعرا نے اسے اپنی تخلیقات میں دو طرح سے موضوع بنایا ہے، یعنی حقیقی اور مجازی عشق۔ یہاں ہم اردو کے نام وَر ادیب، افسانہ نگار اور ڈراما نویس اشفاق احمد کی مشہور کتاب ‘زاویہ’ کے باب محبّت کی حقیقت’ سے ایک اقتباس نقل کررہے ہیں جو آپ کی دل چسپی کا باعث بنے گا۔

“انا اور نفس کو ایک انسان کے سامنے پامال کرنے کا نام عشق مجازی ہے اور اپنی انا اور نفس کو سب کے سامنے پامال کرنے کا نام عشق حقیقی ہے، اصل میں دونوں ایک ہیں۔

عشقِ حقیقی ایک درخت ہے اور عشقِ مجازی اس کی شاخ ہے۔ جب انسان کا عشق لاحاصل رہتا ہے تو وہ دریا کو چھوڑ کر سمندر کا پیاسا بن جاتا ہے، چھوٹے راستے سے ہٹ کر بڑے مدار کا مسافر بن جاتا ہے۔ تب، اس کی طلب، اس کی ترجیحات بدل جاتیں ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں