آشیانہ اسکینڈل کیس، شہبازشریف کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے کا حکم
The news is by your side.

Advertisement

آشیانہ اسکینڈل کیس، شہبازشریف کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے کا حکم

لاہور : احتساب عدالت نے آشیانہ اسکینڈل میں گرفتار شہباز شریف کو 13 دسمبر تک جیل بھجوادیا اور نیب کی مزید جسمانی ریمانڈکی استدعا مستردکردی۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں شہبازشریف کیخلاف آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل کیس کی سماعت ہوئی ، قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو عدالت میں پیش کیا گیا، احتساب عدالت کے جج نجم الحسن نے سماعت کی۔

شہبازشریف کو آج ساتویں بار لاہور کی احتساب عدالت لایا گیا تھا، اس موقع پر عدالت کے اطراف سیکیورٹی الرٹ ہے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے جبکہ کسی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر رینجرز کےجوان بھی موجود ہیں۔

سماعت میں وکیل نیب نے بتایا منصور انور نامی شخص رقوم شہباز شریف کے اکاؤنٹ میں جمع کراتا رہا، منصور انور شہباز شریف کا خاندانی ملازم ہے اس نے 55.4 ملین اکاؤنٹ میں جمع کرائے، رقوم 14-2013میں آشیانہ کا ٹھیکہ منسوخ ہونے کے دوران جمع کرائی گئیں۔

نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ زمین بیچ کر 20کروڑ ملے، جن کے تحائف دیے گئے ، صرف 2کروڑ 20 لاکھ کی دستاویز دیں، باقی 5 کروڑ 5 لاکھ کا ثبوت نہیں دیا گیا، ملک مقصود کے اکاؤنٹ میں بھی ساڑھے3 ارب جمع کرائےگئے، ملک مقصود نے جو پتہ لکھوایا وہ شہباز شریف کا ہے اور شہبازشریف کے ملازم کی جانب سے دونوں اکاؤنٹس میں رقوم مشکوک ہیں۔

وکیل شہباز شریف نے کہا 2011 میں 9کروڑ 30 لاکھ والد نے تحفہ کیے، وہ کہتے ہیں وہ ٹیکس ریٹرن میں نہیں دکھائے گئے ، نیب جان بوجھ کر عدالت میں غلط بیانی کررہا ہے ، نیب نے اب کہانی میں مزید 2کردار شامل کر لیےہیں، کسی کے اکاؤنٹ میں رقوم جمع ہونا قانون کے تحت جرم نہیں۔

شہبازشریف کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ بچوں کو جو تحفے دیے رقوم اکاونٹ میں جمع ہوئیں وہ قانونی ہیں، منصور انور کا نام جان بوجھ کر آج عدالت میں بتایا گیا ، منصورانور کا نام پہلے دن سے نیب کے علم میں ہے۔

عدالت نے نیب سے استفسار کیا بتایا جائے یہ مقصود انور کون ہے ؟ وکیل نیب نے بتایا مقصود انور شریف خاندان کا ملازم ہے، جس پر وکیل شہباز شریف نے کہا مقصود انور رمضان شوگر ملز کا اکاؤنٹنٹ ہے، جو جرم نہیں ، ملک مقصود کا جو ایڈریس ہے، وہ شہباز شریف کا نہیں۔

نیب وکیل نے مزید ریمانڈ کی استدعا کی جبکہ وکیل صفائی نے ریمانڈ کی مخالفت کی، وکیل صفائی کا دلائل میں کہنا تھا تمام لین دین ریکارڈ پر ہے، شہباز شریف کے بچے تمام کاروبار دیکھتے ہیں،رمضان شوگرملز سے بھی ان کے موکل کا کوئی تعلق نہیں، مزید ریمانڈ نہ دیا جائے

عدالت نےفریقین کے دلائل سننے کے بعد نیب کی جانب سے شہباز شریف کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزم کو تیرہ دسمبر تک جیل بھجوادیا۔

شہباز شریف کی پیشی، ن لیگی کارکنان کی ہنگامہ آرائی


اس سے قبل شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر احتساب عدالت کے باہر ن لیگی کارکنان نے پولیس اہلکاروں کو دھکے دیئے اورنعرےلگائے اور احتساب عدالت میں گھسنےکی کوشش کی۔

پولیس کی جانب سے ن لیگی کارکنان کوعدالت میں جانےسےروکنے  کے لیے لاٹھی چارج کیا گیا جبکہ  متعددن لیگی کارکنان کوحراست میں لےلیا گیا ہے۔

گذشتہ سماعت میں احتساب عدالت نے اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف کے جسمانی ریمانڈ میں 6 دسمبر تک توسیع کی تھی، نیب وکیل نے انکشاف کیا کہ شہباز شریف نے چھ کروڑ کے تحائف قریبی عزیزوں کو دیے جبکہ ان کی آمدن ڈھائی کروڑ تھی۔

مزید پڑھیں : آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل، شہبازشریف کے جسمانی ریمانڈمیں 6 دسمبرتک توسیع

واضح رہے نیب لاہور نے5 اکتوبر کو شہبازشریف کو صاف پانی کیس میں طلب کیا تھا تاہم ان کی پیشی پر انہیں آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں کرپشن کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

اگلے روز شہبازشریف کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں انہیں 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پرنیب کے حوالے کردیا گیا تھا۔

جس کے بعد 16 اکتوبر کو ریمانڈ ختم ہونے پر پیش کیا گیا تو احتساب عدالت نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کیس میں گرفتار مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف کے جسمانی ریمانڈ میں 30 اکتوبرتک توسیع کردی تھی۔

ریمانڈ ختم ہونے پر شہبازشریف کو 29 اکتوبر کو عدالت میں پیش کیا گیا تو (نیب) نے آشیانہ اسکینڈل کیس کے ملزم اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے مزید 15 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی ، جس پر عدالت نے ان کے ریمانڈ میں مزید توسیع کردی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں