The news is by your side.

Advertisement

مرزا چپاتی کی حاضر جوابی

خُدا بخشے مرزا چپاتی کو، نام لیتے ہی صورت آنکھوں کے سامنے آگئی۔ گورا رنگ، بڑی ابلی ہوئی آنکھیں، لمبا قد شانوں پر سے ذرا جھکا ہوا۔ چوڑا شفّاف ماتھا۔ تیموری ڈاڑھی، چنگیزی ناک، مغلئی ہاڑ۔ لڑکپن تو قلعے کی در و دیوار نے دیکھا ہوگا۔

جوانی دیکھنے والے بھی ٹھنڈا سانس لینے کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ڈھلتا وقت اور بڑھاپا ہمارے سامنے گزرا ہے۔ لُٹے ہوئے عیش کی ایک تصویر تھے۔ رنگ روغن اترا ہوا محمد شاہی کھلونا تھا جس کی کوئی قیمت نہ رہی تھی۔

کہتے ہیں کہ دلّی کے آخری تاج دار ظفر کے بھانجے تھے۔ ضرور ہوں گے۔ پوتڑوں کی شاہ زادگی ٹھیکروں میں دم توڑ رہی تھی، لیکن مزاج میں رنگیلا پن وہی تھا۔ جلی ہوئی رسّی کے سارے بل گن لو۔ جب تک جیے پرانی وضع کو لیے ہوئے جیے۔

مرتے مرتے نہ کبوتر بازی چھوٹی، نہ پتنگ بازی۔ مرغے لڑائیں یا بلبل، تیراکی کا شغل رہا یا شعبدے بازی کا۔ شطرنج کے بڑے ماہر تھے۔ غائب کھیلتے تھے، خدا جانے غدر میں یہ کیوں کر بچ گئے اور جیل کے سامنے والے خونی دروازے نے ان کے سر کی بھینٹ کیوں نہ قبول کی؟

انگریزی عمل داری ہوئی۔ بدامنی کا کوئی اندیشہ نہ رہا تو مراحمِ خسروانہ کی لہر اٹھی۔ خاندانِ شاہی کی پرورش کا خیال آیا، پینشنیں مقرر ہوئیں۔ مگر برائے نام۔ ساڑھے تیرہ روپے مرزا چپاتی کے حصّے میں آئے۔ اللہ اللہ کیا زمانے کا انقلاب ہے، ایک ذرا سے چکر میں تقدیر ہزار قدم پیچھے ہٹ گئی۔

لیکن صاحب عالم مرزا فخرالدین عرف مرزا فخرو الملّقب بہ مرزا چپاتی نے مردانہ وار زندگی گزاری۔ گھر بار جب کبھی ہوگا، ہوگا۔ ہماری جب سے یاد اللہ ہوئی دمِ نقد ہی دیکھا۔ قلعے کی گود میں بازیوں کے سوا اور سیکھا ہی کیا تھا جو بگڑے وقت میں اَبرد بتاتا۔

اپنے والد رحیم الدین حیا سے ایک فقط شاعری ورثے میں ملی تھی۔ پڑھنا لکھنا آتا نہ تھا۔ پھر زبان توتلی، مگر حافظہ اس بلا کا تھا کہ سو سو بند کے مسدّس ازبر تھے۔ کیا مجال کہ کہیں سے کوئی مصرع بھول جائیں۔ گویا گرامو فون تھے، کوک دیا اور چلے۔

حاضر دماغ ایسے کہ ایک مرتبہ دہلی کی مشہور ڈیرہ دار طوائف دونّی جان جو ادھیڑ عمر کی عورت ہوچکی تھیں کہیں سامنے سے آتی نظر آئیں۔ انھیں دیکھ کر مرزا کے کسی دوست نے کہا کہ استاد اس وقت دونّی جان پر کوئی پھبتی ہوجائے تو مزہ آجائے۔ بھلا مرزا صاحب کہاں چوکنے والے تھے۔ فوراً بولے

گھستے گھستے ہوگئی اتنی ملٹ
چار پیسے کی دونّی رہ گئی

اس طرح ایک دن کسی شخص نے مرزا صاحب کے سامنے یہ مصرع پڑھا، ‘سَر عدو کا ہو نہیں سکتا میرے سَر کا جواب’۔ اور اس پر مصرع لگانے کی فرمائش کی۔

مرزا صاحب نے اسی وقت بہترین مصرع لگا کر اس طرح ایک اعلا پایہ کا شعر بنا دیا:

شہ نے عابد سے کہا بدلہ نہ لینا شمر سے
سَر عدو کا ہو نہیں سکتا میرے سَر کا جواب

(نام ور ادیب اور مترجم اشرف صبوحی کی تحریر “مرزا چپاتی” سے اقتباس)

Comments

یہ بھی پڑھیں