The news is by your side.

Advertisement

جعلی اکاؤنٹس کیس: آصف زرداری سمیت 172 افراد کے بیرونِ ملک سفر پر پابندی

اسلام آباد: سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سمیت متعدد پی پی رہنماؤں کے نام جعلی اکاؤنٹس کیس میں ای سی ایل میں ڈال دئیے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نےجےآئی ٹی میں شامل172افراد کی فہرست جاری کر دی ہے ، اس فہرست میں سابق صدر کا نام 24 ویں نمبر پر ہے، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کا نام بھی اسی فہرست میں شامل ہے۔

ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں میں آصف زرداری،بلاول بھٹو،فریال تالپورکےنام شامل ہیں جبکہ عبدالغنی انصاری اورعبدالغنی ماجد سرفہرست ہیں۔

فہرست میں صوبائی وزیرامتیازشیخ،حسین لوائی،ڈاکٹردنشاایچ انکل سریا،منصورقادرکاکا،مکیش چاؤلہ،محمداعجازہارون کےنام شامل ہیں۔

سندھ بینک کےچیئرمین بلال شیخ ، سندھ بینک منیجرثروت عظیم،ندیم الطاف اور نیشنل بینک کےندیم انورالیاس شامل ہیں۔اومنی گروپ کی نازلی مجیداورنمرمجیدخواجہ اور محمدعارف خان بھی فہرست میں شامل ہیں۔

ایڈیشنل سیکریٹری فنانس ناصراحمدشیخ،سیکریٹری انڈسٹریزضمیرحیدر،قائم مقام چیئرمین ایس ای سی پی طاہرمحمود کانام بھی ای سی ایل میں ڈال دیاگیا ہے، ایگزیکٹیوڈائریکٹرایس ای سی پی عابدحسین اور سمٹ بینک کےضمیراسماعیل بھی اس لسٹ میں شامل ہیں۔

قائم مقام صدرسمٹ بینک احسن رضادرانی،سیکریٹری توانائی آغاواصف شامل، ڈپٹی کمشنرملیرقاضی جان محمدکانام بھی ای سی ایل میں شامل ہے۔

حکومت کا آصف علی زرداری کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ

یاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ جعلی اکاؤنٹس کیس میں جے آئی ٹی کے نامزد 172 لوگوں کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں گے، جو لوگ کہتے تھے کہ وہ جے آئی ٹی کو سنجیدہ نہیں لیتے اب سنجیدہ لیں گے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ احتساب کا عمل بلا امتیاز اور بلا تفریق جاری رہے گا۔ منی لانڈرنگ کے لیے عوامی عہدوں کا استعمال کیا گیا۔ آصف زداری کو معلوم ہوجائے گا یہ پرانا پاکستان نہیں ہے، ایک ایک روپے کا حساب لیا جائے گا، احتساب کا عمل چلتا رہے گا۔

جے آئی ٹی رپورٹ کی سمری


رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے5ستمبر کو جے آئی ٹی تشکیل دی تاکہ جعلی بینک اکاؤنٹ کیس کی تفتیش کی جاسکے، جے آئی ٹی میں نیب، ایف بی آر، ایس ای سی پی اور آئی ایس آئی نے تحقیقات کیں۔

جےآئی ٹی نے885افراد کو سمن جاری کیا جس کے بعد767افراد اس کےروبرو پیش ہوئے، جے آئی ٹی نے924افراد کے11500اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کی جن کا کیس سے گہرا تعلق ہے، مقدمے میں گرفتار ملزم حسین لوائی نے11مرحومین کے نام پر جعلی اکاؤنٹ کھولے۔

اومنی گروپ کے اکاؤنٹس میں 22.72بلین کی ٹرانزکشنز ہوئیں، زرداری خاندان ان جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اخراجات کے لیے رقم حاصل کرتا رہا، فریال تالپور کے کراچی گھر پر3.58ملین روپے خرچ کیے گئے، زرداری ہاؤس نواب شاہ کے لیے 8لاکھ 90ہزار کا سیمنٹ منگوایا گیا۔

بلاول ہاؤس کے یوٹیلیٹی بلز پر1.58ملین روپے خرچ ہوئے، بلاول ہاؤس کے روزانہ کھانے پینے کی مد میں4.14ملین روپے خرچ ہوئے، زرداری اور خاندان کے ہوائی سفر پر12.82ملین روپے خرچ ہوئے، زرداری گروپ نے148ملین روپے کی رقم جعلی اکاؤنٹس سے نکلوائی۔

مزید پڑھیں: میگا منی لانڈرنگ کیس، آصف زرداری کو نوٹس جاری، اومنی گروپ کی جائیدادیں منجمد کرنے کا حکم

بلٹ پروف ٹرک کے لیے14.6ملین روپے خرچ کیے گئے، نوڈیرو میں پریزیڈنٹ ہاؤس پر42ملین روپے خرچ ہوئے، زرداری خاندان نے اومنی ایئر کرافٹ پر110سفر کیے، زرداری خاندان نے جیٹ چاپر پر نو بار سفر کیا جس پر8.95ملین روپے خرچ آیا، زرداری نے اپنے وکیل کو2.3ملین کی فیس جعلی اکاؤنٹ سے ادا کی۔

زرداری خاندان نے باہر سے گاڑیاں منگوانے پرجعلی اکاؤنٹس سے37ملین ڈیوٹی ادا کی آصف زرداری کو اومنی ملز کےاکاؤنٹ سے265 ملین ادائیگی کی گئی، فریال تالپورکو241ملین کی رقم اومنی ملز کےاکاؤنٹ سے دی گئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں