ایک شخص کو بچانے کے لیے کیسا گرینڈ ڈائیلاگ؟ آصف زرداری -
The news is by your side.

Advertisement

ایک شخص کو بچانے کے لیے کیسا گرینڈ ڈائیلاگ؟ آصف زرداری

لاہور: سابق صدر آصف زرداری کا کہنا ہے کہ ماضی میں مجھے مشکل میں دیکھ کر غیر سیاسی قوت کی خوشنودی کے لیے نواز شریف مجھ سے نہیں ملے تھے۔ اب کسی ایک شخص کو بچانے کے لیے کیسا گرینڈ ڈائیلاگ، عدالت نے فیصلہ کر دیا تو نواز شریف مان کیوں نہیں لیتے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے کہا ہے کہ رضا ربانی آزاد دانشور اور چیئرمین سینٹ ہیں۔ میر ی آواز اعتزاز احسن ہے۔

انہوں نے ایک اور انکشاف کیا کہ نواز شریف کے بھائی کے انتقال پر وہ اظہار تعزیت کے لیے ان کے پاس جانا چاہتے تھے لیکن انہوں نے غیر سیاسی قوتوں کو خوش کرنے کے لیے تعزیت کے لیے بھی ملنے سے انکار کر دیا تھا۔ نواز شریف مجھے مشکل میں دیکھ کر غیر سیاسی قوت کی خوشنودی کے لیے مجھ سے نہیں ملے تھے۔

مزید پڑھیں: شریف خاندان کو مستقبل کی سیاست میں نہیں دیکھ رہا، زرداری

سابق صدر کا کہنا تھا کہ نواز شریف تو جنرل مشرف سے سمجھوتہ کر کے چلے گئے، جیل تو میں نے کاٹی، ذرا سی مسکراہٹ دیتا تو جنرل مشرف سے سب کچھ لے سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ سیاسی قوتوں کے ساتھ کھڑے ہوئے اور انہیں اکٹھا کرنے کی کوشش کی۔ گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی جگہ پارلیمنٹ ہے، کسی ایک شخص کو بچانے کے لیے کیسا گرینڈ ڈائیلاگ، عدالت نے فیصلہ کر دیا ہے تو نواز شریف مان کیوں نہیں لیتے۔ میں بھی ایک وزیر اعظم کو ہٹا کر دوسرا لے آیا تھا۔

آصف زرداری نے مزید کہا کہ جمہوری عمل کو چلنے دیا جائے۔ میں نہیں تو جمہوری عمل بھی نہیں، نواز شریف کی یہ سوچ خطرناک ہے۔ سنہ 2013 کے انتخاب میں آر اوز مینڈنٹ کو تسلیم نہ کرتا تو بڑا بحران پیدا ہوجاتا۔

یاد رہے کہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے گزشتہ روز بھی بلاول ہاؤس لاہور میں پریس کانفرنس کی تھی جس میں انہوں نے ایک بار پھر شریف خاندان کا ساتھ نہ دینے کا دو ٹوک اعلان کیا تھا۔


Comments

comments

یہ بھی پڑھیں