حکومت سے این آر او کیوں مانگوں گا، مشرف سے بھی نہیں مانگا تھا، آصف زرداری -
The news is by your side.

Advertisement

حکومت سے این آر او کیوں مانگوں گا، مشرف سے بھی نہیں مانگا تھا، آصف زرداری

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ میں نے تو مشرف سے بھی این آر او نہیں مانگا تھا، حکومت سے کیوں مانگوں گا،  این آر او دینا مشرف کی ضرورت تھی۔

تفصیلات کے مطابق سابق صدر آصف زرداری نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں حکومت گرانے میں کوئی خاص دل چسپی نہیں ہے، دیکھتے ہیں فضل الرحمان 31 اکتوبر کو اے پی سی کراتے ہیں یا نہیں۔

اصل جھگڑا 18 ویں ترمیم ختم کرنے کا ہے، یہ لوگ 18 ویں ترمیم واپس کرانا چاہتے ہیں: آصف زرداری

آصف زرداری نے کہا کہ اصل مسئلہ مجھ سے ہے اور پکڑتے میرے دوستوں کو ہیں، سندھ میں ایک گروپ کی میں نے سپورٹ کی، اس پر انھوں نے قیامت ڈھا دی، الیکشن کے دوران ہم نے دیکھا یہ ہم پر حملہ کرتے ہیں، ہم سے سندھ کی حکومت چھیننے کی کوشش کی گئی۔

پی پی رہنما نے کہا کہ اصل جھگڑا 18 ویں ترمیم ختم کرنے کا ہے، ہم نے 18 ویں ترمیم کے ذریعے پختونوں کو پہچان دی، یہ لوگ 18 ویں ترمیم واپس کرانا چاہتے ہیں، 18 ویں ترمیم واپس کرنے کے لیے سب ڈراما کیا جا رہا ہے، ترمیم ختم کرنے کے لیے ان کے پاس مینڈیٹ ہے نہ ہی سوچ۔

انھوں نے کہا کہ نواز شریف کو میری اور نہ مجھے ان کی ضرورت ہے، نواز شریف سنتے نہیں اور یہ والے سمجھتے نہیں، پہلے نواز شریف لاڈلہ تھا اب عمران خان لاڈلہ ہے، میں نے کبھی لاڈلہ بننے کی کوشش نہیں کی۔


یہ بھی پڑھیں:  دھرنا دیں شور کرلیں، این آر او نہیں ہوگا، کرپشن کے خاتمے کے لیے اگلے ہفتے قانون لا رہے ہیں، وزیرِ اعظم


ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ میری گرفتاری کوئی نئی بات نہیں ہوگی، ڈیل کے لیے دبئی کے علاوہ کوئی اور اچھی سی جگہ بتائیں، سعودی عرب سے ذوالفقار علی بھٹو کی بھی دوستی تھی، سعودی عرب نے ہماری اور ہم نے ان کی مدد کی ہے، بھٹو نے شاہ فیصل سے دوستی رکھی تھی، چین سے ہماری دوستی تھی اور ہے۔

پہلے نواز شریف لاڈلہ تھا اب عمران خان لاڈلہ ہے، میں نے کبھی لاڈلہ بننے کی کوشش نہیں کی: آصف زرداری

انھوں نے کہا کہ جو لوگ آمریت کے دور کی ایکٹنگ کر رہے ہیں وہ بہت برے اداکار ہیں، یہ آمریت کے دور سے زیادہ متحرک ہوگئے ہیں، لوگ جیسا کریں گے ویسا بھریں گے، ہم چاہتے ہیں یہ حکومت کریں اور تھکیں، پارلیمنٹ ہمارا کام ہے لڑ جھگڑ کر خود کرلیں گے دخل اندازی نہ کریں۔

پی پی شریک چیئرمین کا کہنا تھا کہ ریاست کو خطرہ باہر سے نہیں اندر سے ہوتا ہے، سعودی بیل آؤٹ پیکج سے خوش ہوں، لاہور آ کر ہمیشہ خوشی ہوتی ہے، ہم پیدا بھی سیاسی خاندان میں ہوئے اور دفن بھی سیاسی پرچم میں ہوتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں