The news is by your side.

Advertisement

گورنر کے ماتحت فاٹا قابلِ قبول نہیں، آصف زرداری

اسلام آباد : پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ گورنرکےماتحت فاٹا کوتسلیم نہیں کرتے اس کے لیے پارلیمنٹ کے ذریعے فاٹا اصلاحات کی جائیں۔

سابق صر پاکستان اور پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین کے حالیہ صدر آصف زرداری نے اپنے ایک بیان میں فاٹا اصلاحات کے لیے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت پر ذور دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فاٹااصلاحات پرحکومتی طریقہ کارقبول نہیں اس معاملے پر فاٹاکےعوام کےساتھ کھڑے ہوکرحقوق دلوائیں گے اور پاک فوج کےساتھ ملکرفاٹامیں شدت پسندی کامقابلہ کریں گے۔

آصف زرداری نے کہا کہ فاٹا میں ریفرنڈم کے حامی نہیں ریفرنڈم میں ہیر پھیر ہے اور فاٹاکےمعاملےپرسیاسی قوتوں سےپوچھاجائے جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ فاٹا پر 5 سال میں فیصلہ کریں گے۔

پاناماکیس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کے منتظر ہیں معزز عدالت کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد اپنا لائحہ عمل طےکریں گے ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں 5 سال کا عرصہ درکار ہو گا اور تب تک فاٹا اصلاحات پر عمل در آمد کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان، وزیر اعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک سمیت چند دیگر سیاسی عمائدین فاٹا کے خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے کے حامی ہیں جب کہ مولانا فضل الرحمان اس معاملے پر فاٹا کے عوام کی رائے لینا ضروری سمجھتے ہیں۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں