The news is by your side.

Advertisement

آصفہ زیادتی کیس، 6 ہندو انتہاء پسندوں کو قید کی سزا

نئی دہلی:بھارت کی عدالت نے 8 سالہ آصفہ زیادتی اور قتل کیس کا فیصلے سناتے ہوئے 6 ہندو انتہاء پسندوں کو قید کی سزا سنادی۔

تفصیلات کے مطابق ایک برس قبل مقبوضہ کشمیر کے ضلع کہوٹہ میں آصفہ نامی بچی کو اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا تھا جس کی لاش جنوری 2018 کو جموں کشمیر کے جنوبی علاقوے سے برآمد ہوئی تھی۔

آصفہ کا تعلق مسلمان قبیلے بکروان سے تھا، بچی کو ہندو انتہا پسندوں نے اغوا کر کے مندر میں چھپایا اور پانچ روز بعد اُس کی لاش جنگل سے برآمد ہوئی تھی۔ بچی کے قتل کے بعد بھارت میں بھی درندگی کے خلاف آواز بلند ہونا شروع ہوئی جبکہ بالی ووڈ اداکاروں نے بھی گھناؤنے جرم میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا تھا۔

بچی کی لاش ملنے کے بعد بھارت کے کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے بھی شروع ہوگئے تھے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں حالات شدید کشیدہ ہوگئے تھے جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے واقعے میں ملوث 8 افراد کو حراست میں لیا جبکہ حالات کے پیش نظر ملزمان کو کشمیر سے بھارت کے علاقے پنجاب منتقل کردیا تھا جس کے بعد مقدمے کی سماعت بھی وہی ہوئی۔

مزید پڑھیں: آصفہ زیادتی کیس، امید ہے متاثرہ خاندان کو انصاف ضرور ملے گا، عالیہ بھٹ

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار ہونے والے ملزمان نے دورانِ تفتیش اور مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور بتایا کہ آصفہ کو اغوا اور اُسے زیادتی کے بعد قتل کرنے کا مقصد خاندان کو خوفزدہ کرنا تھا تاکہ وہ کشمیر چھوڑ کر کسی اور علاقے منتقل ہو جائیں۔

عدالت نے استغاثہ اور ملزمان کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد کیس کا فیصلہ سنایا جس کے مطابق 6 ملزمان کو قید کی سزا جبکہ ساتویں کو کم عمری کی وجہ سے سزا نہیں دی گئی اور آٹھویں ملزم کو شواہد نہ ہونے کی بنیاد پر باعزت بری کردیا گیا۔

شمالی پنجاب میں پٹھان کوٹ کی عدالت کے سامنے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل پراسیکیوٹر مبین فاروقی نے بتایا کہ ملزمان کو کم از کم عمر قید اور زیادہ سے زیادہ سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق چھ میں سے تین ملزمان کو عمر قید جب کہ تین کو پانچ سال قید کی سزا دی گئی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں