The news is by your side.

Advertisement

تین رکنی بنچ ڈاکٹر عاصم کے ای سی ایل کیس کی سماعت کرے گا

کراچی: پیپلز پارٹی کے صدر ( کراچی)ڈاکٹر عاصم حسین کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے عدالت نے کیس تین رکنی بنچ کے سامنے لگانے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر عاصم حسین کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے کیس کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کراچی میں کی۔

سماعت کے دوران جسٹس مشیر عالم کا کہنا تھا کہ اس کیس کی سماعت کے لیے 3 رکنی بنچ مقرر ہونا چاہیے، انہوں نے مزید کہا کہ دو رکنی بنچ ہونے کے باعث کیس نہیں سن سکتے۔

جسٹس مشیر عالم کے ریمارکس سامنے آنے کے بعد عدالت نے ڈاکٹر عاصم کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا مقدمہ تین رکنی بنچ کے سامنے لگانے کا حکم دے دیا۔

 یاد رہے کہ سابق صوبائی وزیرپیٹرولیم ڈاکٹر عاصم کو دو برس قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردوں کے علاج و معالجے کے مقدمے میں گرفتار کیا تھا‘ 19 ماہ بعد تک تفتیش کے بعد انہیں جیل سے رہا کیا گیا ‘ اسی دوران نیب نے بھی کرپشن کی تحقیقات شروع کردی تھیں۔

ڈاکٹرعاصم ای سی ایل کیس ، وزارت داخلہ سے ایک ہفتے میں جواب طلب*

کراچی : سابق مشیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم نے ای سی ایل سے نکلوانے سے متعلق درخواست سندھ ہائیکورٹ میں دائر کردی، جس میں انکا کہنا ہے کہ علاج کیلئے باہر جانے دیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر عاصم نے رہائی کے بعد ای سی ایل سے نام خارج کرنے سے متعلق سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی، درخواست میں ڈاکٹر عاصم حسین کے جانب سے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ بیمار ہیں اور کمر میں شدید تکلیف ہے ،میڈیکل بورڈ نے بھی بیرون ملک علاج کی تجویز دی ہے۔

درخواست میں ڈاکٹر عاصم کی جانب سے کہا گیا جج صاحب! علاج کیلئے باہر جانے دیں ، لندن میں ڈاکٹروں سے 20اپریل کا اپائنمنٹ ہے، بر وقت علاج نہ ہوا تو طبیعت بگڑ سکتی ہے۔

تحقیقات کے آغا ز کے بعد نیب کی جانب سے ڈاکٹر عاصم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی گئی جس پر وزارت ِداخلہ نے 24نومبر 2015کو ای سی ایل میں نام شامل کیا تھا۔

ڈاکٹر عاصم کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ وزارت داخلہ کو ای سی ایل سے نام خارج کرنے کا حکم دیا جائے، درخواست میں وفاقی وزارت داخلہ ، محکمہ داخلہ سندھ ، نیب اور آئی جی سندھ کو فریق بنایا گیا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں