The news is by your side.

Advertisement

مردان: 4 سالہ بچی اسما کے قاتل کو کڑی سزا مل گئی

مردان: چار سال قبل خیبر پختون خوا کے شہر مردان میں زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل ہونے والی ایک چار سالہ معصوم بچی اسما کے قاتل کو بچوں کے تحفظ کی عدالت نے عمر قید کی سزا دے دی۔

تفصیلات کے مطابق چائلڈ پروٹیکشن کورٹ کے جج اعجاز احمد نے مردان کے مشہور زمانہ 4 سالہ بچی اسما کے اغوااور قتل کیس میں جرم ثابت ہونے پر ملزم کو عمر قید اور 1 لاکھ 40 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔

متعلقہ کیس پشاور ہائی کورٹ نے چائلڈ پروٹیکشن کورٹ منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، جس میں ٹرائل مکمل ہونے کے بعد ملزم کو سزا سنا دی گئی۔

سرکار کی جانب سے اسسٹنٹ پبلک پراسیکیوٹر فرمان اللہ خان اور سید عنایت شاہ بادشاہ ایڈوکیٹس نے مقدمے کی پیروی کی۔ استغاثہ کے مطابق ملزم محمد نبی ولد عبیداللہ پر الزام تھا کہ اس نے 2018 میں ایک بچی اسما سکنہ گجر گڑھی مردان کو اغوا کرنے کے بعد اسے زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں اسے بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔

ملزم کے خلاف صدر مردان پولیس اسٹیشن نے 14 جنوری 2018 کو مختلف دفعات 302,364,376 کے تحت مقدمہ درج کیا، اور ملزم کو گرفتار کیا گیا۔

ملزم محمد نبی کو جرم ثابت ہونے پر انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سزا سنائی تھی، تاہم اس کے خلاف ملزم نے عدالت عالیہ سے رجوع کیا، اور مؤقف اپنایا کہ متعلقہ عدالت کے پاس یہ اختیار حاصل نہیں کہ اسے سزا دے کیوں کہ جس وقت یہ وقوعہ ہوا اس وقت ملزم کی عمر 16 سال تھی۔

اس پر ہائی کورٹ نے کیس کے دوبارہ ٹرائل کا حکم دیتے ہوئے اسے چائلڈ کورٹ ریمانڈ کر دیا تھا، آج چائلڈ کورٹ نے کیس میں سماعت مکمل ہونے پر ملزم کو عمر قیداور جرمانے کی سزا سنا دی۔

واضح رہے کہ جولائی 2018 میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اسما کے قتل کے ملزم محمد نبی کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، عدالت نے مجرم پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ اسما قتل کیس میں 200 سے زائد بلڈ سیمپلز لیے گئے تھے، جن میں سے ملزم محمد نبی کا ڈی این اے میچ کر گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں