site
stats
پاکستان

عاصمہ جہانگیر کا سپریم کورٹ پر سنگین الزام، وکلاء برادری سراپا احتجاج

اسلام آباد: وکیل رہنماء عاصمہ جہانگیر نے سپریم کورٹ کی سالمیت پر سخت جملوں کے ذریعے حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاناما فیصلے میں اسٹیبلشمنٹ کے پیروں کے نشانات واضح ہیں۔

اسلام آباد میں عدلیہ مخالف پریس کانفرنس کرتے ہوئے عاصمہ جہانگیر نے سپریم کورٹ پر الزام عائد کیے اور کہا کہ قانون کی کرسی پر بیٹھے ہوئے لوگوں نے انصاف کی بے حرمتی کی، کاش سپریم کورٹ کسی مافیا کے خلاف فیصلہ کر کے دکھائے۔

عاصمہ جہانگیر نے ملکی سالمیت کے اداروں اور اسٹیبلشمنٹ پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کے خلاف آنے والے پاناما فیصلے میں اسٹیبلشمنٹ کے پیروں کے نشان واضح ہیں، ہم نے سوچا تھا کہ نوازشریف سے ہیروں کی بوریاں برآمد ہوں گی مگر صرف اقامہ نکل سکا۔

وکیل رہنماء نے آئینِ پاکستان اور عدلیہ پر بے بنیاد الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ آئین کا بگڑا ہوا بچہ ہے، پاناما کیس کا فیصلہ انصاف کے ادارے پر ایک بڑا دھبہ ہے۔

عاصمہ جہانگیر کی پریس کانفرنس پر وکلاء کا ردعمل

ماہر قانون اظہر صدیق

دوسری جانب ماہر قانون اظہر صدیق نے وکیل رہنماء کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کی پریس کانفرنس سُنی وہ کسی سازش کی بات کررہی تھیں، اگر مدعاعلیہ فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دیں گے تو اُس کی سماعت کے لیے نیا بینچ نہیں بنے گا بلکہ وہی ججز سماعت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر، میرشکیل ایک گینگ کا نام ہے جو فوج اور عدلیہ کے خلاف مسلسل سازشوں میں سرگرم ہے، عاصمہ جہانگیر نے پی سی او ججز سے متعلق جو بات کہی وہ قابل افسوس ہے۔

بیرسٹر فروغ نسیم

بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کے مؤقف سے متفق نہیں ہوں کیونکہ پاناما لیکس سے پاک فوج کا کوئی تعلق نہیں ہے، جتنے بھی ذی شعور وکلا ہیں انہیں معلوم ہے کہ بینچ نے میرٹ پر فیصلہ کیا۔

ماہر قانون فواد چوہدری

ماہر قانون اور تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے کہا کہ عالمی میڈیا نے پاناما فیصلے پر سپریم کورٹ کی تعریف کی اور اس سے دنیا بھر میں پاکستان کا وقار بلند ہوا، عاصمہ جہانگیر مافیا کا حصہ ہیں پاناما فیصلہ مافیا کے خلاف آیا جس کی وجہ سے کئی لوگوں کے مفادات کو ٹھیس پہنچی۔

علاوہ ازیں وکلاء برادری کے دیگر رہنماؤں نے بھی عاصمہ جہانگیر کی جانب سے عدلیہ مخالف پریس کانفرنس کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top