The news is by your side.

پنجاب اور کے پی کے اسمبلیاں کب تحلیل ہوں گی ؟ فواد چوہدری نے بتا دیا

اسلام آباد : تحریک اںصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ 20 دسمبر سے پہلے اسمبلیاں تحلیل ہوجائیں گی، ن لیگ کے اٹھارہ ممبر ایسے ہیں جو اگلا الیکشن پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر لڑنا چاہتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق تحریک اںصاف کے رہنما فواد چوہدری نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک اسمبلیاں تحلیل نہیں ہوجاتی مختلف خبریں آتی رہیں گی، ہم تو چاہتے ہیں عام انتخابات کیلئےحکومت بیٹھے اور اعلان کرے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت سمجھتی ہے جب تک جیت نہیں سکتے الیکشن نہیں کرائیں گے، اسمبلیوں کی تحلیل 20 دسمبر سے پہلے ہو جائے گی، 3ماہ میں الیکشن ہوں گے۔چاہتےہیں آئندہ مارچ سےپہلےملک بھرمیں عام انتخابات ہوں۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ عمران خان نےاعلان کردیا ہے تمام ارکان اس کی حمایت کریں گے، جن ارکان کواستعفے نہ دینے کی تجویز اگر ہے بھی تو اعتمادمیں لیا جائے گا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ن لیگ کے ایسے 18 ارکان ہیں جوپی ٹی آئی کیساتھ استعفے دینا چاہتے ہیں، ن لیگ کے 18 لوگ چاہتے ہیں انہیں آئندہ پی ٹی آئی کاٹکٹ دیا جائے۔

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ زرداری سندھ کا لوٹا ہوا پیسہ پنجاب میں ارکان خریدنے میں لگا سکتے ہیں، آصف زرداری نے پہلے بھی سندھ کا لوٹا پیسہ ارکان خریدنے میں لگایا، یہ آصف زرداری کی مرہون منت ہے کہ پی پی کو سندھ تک محدود کر دیا ہے۔

رہنما تحریک انصاف نے بتایا کہ امریکی سفیر کیساتھ 2 مرتبہ سے زائد ملاقاتیں ہوئی ہیں، عمران خان پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ہیں، دنیا پاکستان میں پی ٹی آئی کی مقبولیت سے بخوبی واقف ہے، امریکا بھی ایسی مقبول پارٹی اورلیڈرکیساتھ تعلقات چاہتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک نہیں لوگ مسائل پیدا کرتے ہیں، امریکا سپر پاور ہے، اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، امریکا کیساتھ ہم بھی قریبی تعلقات چاہتے ہیں، امریکا کیساتھ ایسے تعلقات چاہتے ہیں جیسے بھارت کیساتھ ہیں۔

پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے فواد چوہدری نے کہا کہ امریکا سے باہمی احترام اور باہمی تعاون کے تعلقات چاہتے ہیں، شروع میں ٹرمپ کے ٹوئٹس پر جواب پر امریکا سے تعلقات بگڑے تھے، ٹرمپ کیساتھ بعد میں تعلقات بہت اچھے ہوگئے تھے لیکن ٹرمپ نے بعد میں بھارت کے مقابلے پاکستان کی کھل کر سپورٹ کی۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کو خود سوچنا ہے کہ انہوں نے معاملات کیسے آگے بڑھانے ہیں، اداروں میں ہماری پہلے بھی سپورٹ تھی اب بھی سپورٹ ہے، تحریک انصاف ایک مڈل کلاس جماعت ہےاس لیےسپورٹ رکھتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں