The news is by your side.

Advertisement

لاہور کی اوج فاطمہ کرونا متاثرین کے لئے فرشتہ بن گئی

لاہور کی اوج فاطمہ نے کرونا وبا کے دوران کرونا متاثرین کو مفت کھانا فراہم کرکے انسانیت کی اعلیٰ مثال کی قائم کردی۔

وبا کے آغاز میں جب انتہائی سخت دن گزرے اور کرونا سے متاثرہ افراد سے لوگوں نے رابطہ منقطع کیا تو اوج فاطمہ نے ان سے رابطہ جوڑا اور روزانہ کی بنیاد پر گھر میں کھانا بناکر متاثرین کو پہنچانے لگیں۔

جذبہ انسانیت سے سرشار اوج فاطمہ پکوان کی تیاری کےلیے بازار سے سامان خود خرید کر لاتی اور اپنے ہاتھوں سے خلوص و محبت کی آمیزش کے ساتھ کھانے تیار کرتی ہیں، اس دوران وہ کسی کی مدد حاصل نہیں کرتیں۔

اوج نے بتایا کہ وبائی بحران کے دوران روزانہ 2 سے ڈھائی افراد انہیں فون کال کرتے تھے جنہیں اوج کھانا بھجواتی تھیں جب سے حالات میں بہتری آئی ہے کھانے کی مقدار میں کمی آتی تھی اور اب روزانہ 60 سے 70 افراد کی کال آتی ہے جنہیں کھانا پہنچاتی ہوں۔

اوج فاطمہ نے بتایا کہ اب بھی کسی وقت کال آجائے تو میں انہیں کھانا ڈیلیور کرواتی ہوں اور اس کام کےلیے میں نے باقاعدہ کرائے پر بائیکرز کی خدمات حاصل کیں۔

اوج فاطمہ نے بتایا کہ میں لاہور میں اکیلی رہتی ہوں تو جب لاک ڈاوٗن لگا تو لوگوں نے مجھے نیٹ فلیکس دیکھنے کا مشورہ دیا۔

انہوں نے بتایا کہ مجھے کھانے پکانے کا بہت شوق ہے اور میری دو قریبی دوست بھی کرونا سے متاثر ہوچکی تھی جنہیں میں کھانا بناکر بھیجتی تھی، اس سے مجھے احساس ہوا کہ لوگ کتنی تکلیف میں ہیں کیوں کہ اگر کسی گھر میں خاتون کرونا سے متاثر ہے تو پورا خاندان مشکل کا شکار ہوجاتا ہے۔

اوج فاطمہ نے بتایا کہ میں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ شیئر کی کہ اگر کوئی کرونا سے متاثر ہے تو میں ان کے لیے کھانا بناکر بھیجوں گی اور ان کے اہل خانہ کو کھانا فراہم کروں گی، پھر میں روزانہ دو سو سے اڑھائی سو افراد کا کھانا فراہم کرنے لگی۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے کھانا فراہم کرنے کا کام پانی جمع پونجی سے شروع کیا اور وہ پیسے میرے سرپرستوں کی جانب سے میرے بہتر مستقبل کےلیے جمع کیے گئے تھے لیکن جب لوگوں پر مشکل وقت پڑا تو اسی جمع پونجی سے میں نے روزانہ کھانا فراہم کرنے کا کام شروع کیا۔

اوج فاطمہ نے لوگوں کو احساس دلانے کےلیے یہ جو کھانا انہیں فراہم کیا جارہا ہے وہ خیرات یا صدقے کا نہیں بلکہ عقیدت کا تحفہ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں