The news is by your side.

Advertisement

چلّی کا ایٹاکاما

بارشوں کا رجحان نمی والے سر سبز، میدانی اور ساحلی علاقوں کی نسبت صحراؤں میں کم ہوتا ہے، لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ دنیا کا ایک لق و دق، بے آب و گیاہ صحرا ایسا بھی ہے جو سالہا سال سے بارش کی بوند بوند کو ترسا ہوا ہے۔

وہاں پانی کی نایابی اور کم یابی کے باعث زندگی کے آثار نہ ہونے کے برابر ہیں، اور وہ ہے چلّی کا صحرا ایٹاکاما۔ ماہرین ایسے ریت کے پہاڑوں اور ٹیلوں والے علاقوں کو صحراؤں میں شمار کرتے ہیں، جہاں اوسط سالانہ بارش 250 ملی میٹر (10 انچ) سے کم ہو، لیکن ایٹاکاما کے بیابان جس میں نمی کا تناسب صفر فی صد ہے، سالہا سال کے بعد محدود، مختصر اور جزوی علاقوں میں بارش کا سالانہ تناسب اوسط 10ملی میٹر سالانہ ہے۔ بارش نہ ہونے کے سبب صحرائی پودے کیکٹس اور رینگنے اور خشکی والے جان داروں سانپ، چھپکلی وغیرہ کا بھی دم گھٹنے لگتا ہے۔

اس صحرا کے بعض علاقوں میں بارش کو برسے 400 سال سے زائد کا عرصہ شمار کیا جاتا ہے۔ 70 ہزار مربع میل کے طویل رقبے پر پھیلا یہ صحرا ڈیڑھ کروڑ سال قدیم سمجھا جاتا ہے۔ جنوبی امریکا کے مغربی ساحل پر شمالی چلّی میں واقع یہ صحرا بحرِ اوقیانوس اور کوہ انڈیز کے درمیان واقع ہے اور مغرب میں بحر القدس کے پانی کو چھوتا ہے۔

اس کی سرحدیں چار ممالک پیرو، ارجنٹینا، ہولیوبا او چلی تک پھیلی ہوئی ہیں ۔ اس میں سوڈیم نائٹریٹ، نمک، گندھک، سونا، چاندی اور تانبے جیسی قیمتی معدنیات کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں۔ انھیں معدنی وسائل و ذخائر پر چلّی کی معیشت کا دارو مدار ہے۔ ایٹا کاما سمندر کی قربت میں ہونے سے یہاں کا درجۂ حرارت جولائی جیسے گرم مہینے میں دن میں 13 سے 15 سیلسیئس کے درمیان رہتا ہے اور رات کو اس سے بھی گر جاتا ہے۔ یہ صحرا عالمی سیاحوں کی توجہ کا بھی مرکز ہے۔

( از امتیاز یٰسین)

Comments

یہ بھی پڑھیں