site
stats
پاکستان

دہشت گردی کے4مقدمات،عمران خان کی عبوری ضمانت میں2 جنوری تک توسیع

Imran Khan

اسلام آباد : انسداد دہشت گردی کی عدالت نے چار مقدمات میں چیئرمین عمران خان کی عبوری ضمانت میں 2 جنوری تک توسیع کردی۔

تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے خلاف4مقدمات کی سماعت کی اور عمران خان کی جانب سے دائر درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی۔

عمران خان کے خلاف چار مقدمات میں پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملہ کیس سمیت سابق ایس ایس پی اسلام آباد عصمت اللہ جونیجو پر تشدد کا کیس شامل ہے۔

جس کے بعد عمران خان کیخلاف 4مقدمات کی تاریخ سماعت تبدیل کردی گئی، اب عمران خان 19 دسمبر کے بجائے 2 جنوری کو عدالت میں پیش ہوں گے۔

خیال رہے کہ عمران خان نےعبوری ضمانت میں توسیع کیلئےعدالت سے رجوع کیا تھا۔


مزید پڑھیں : دہشتگردی کی دفعات ختم کرنے کی عمران خان کی درخواست مسترد


گذشتہ سماعت میں عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کی دہشتگردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ چار مقدمات انسداددہشت گردی کی دفعات کے تحت ہی چلیں گے۔

عدالت نے عمران خان کی عبوری ضمانت میں 19 دسمبر کی توسیع کرتے ہوئے دوبارہ پیش ہونے کا حکم دیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ 14 نومبر کوعمران خان انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے تھے، جہاں عدالت نے دو، دو لاکھ روپے کے عوض چیئرمین پی ٹی آئی کی چار مقدمات میں ضمانت منظور کی تھی۔


مزید پڑھیں : عمران خان نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات مسترد کردیئے


یاد رہے اس سے قبل  تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے  پی ٹی وی حملہ سمیت چار کیسز میں تفتیشی افسر انیس اکبر کو تحریری بیان ریکارڈ کرایا اور اپنے اوپر لگے تمام الزامات مسترد کردیئے تھے۔

واضح رہے کہ عمران خان کو پی ٹی وی حملے سمیت تین مقدمات میں اشتہاری قرار دیا گیا تھا، 2014 میں تحریک انصاف کے دھرنے کے دوران عمران خان اور تحریکِ انصاف کے رہنماء عارف علوی کی مبینہ ٹیلیفونک گفتگو منظرِ عام پر آ ئی تھی، جس میں عمران خان مبینہ طور پر حملہ کرنے کا کہہ رہے تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top