The news is by your side.

Advertisement

مقبوضہ کشمیر میں مظالم قابلِ مذمت ہیں، ایرانی سفیر

اسلام آباد: پاکستان میں متعین ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست  نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم قابل مذمت ہیں بھارت کو اپنا رویہ درست کر کے اس مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنا ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد پریس کلب پر منعقدہ  تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی  سفیر مہدی ہنر دوست نے کہا کہ ’’پاک بھارت کشیدگی خطے کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے دونوں ممالک کو مل کر افہام و تفہیم کے ساتھ تمام معاملات پر بات کرنی چاہیے، اس ضمن میں ایران ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے تاکہ خطے کو پائیدار امن مل سکے‘‘۔

پڑھیں:  مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کا سلسلہ فوری بند کیا جائے،او آئی سی

ایرانی سفیر نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو قابل مذمت کرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اپنا رویہ درست کرنا چاہیے، کشمیر میں ہونے والے مظالم قابل افسوس ہیں۔ اس طرح دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔

انہوں نے بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں فوجی طاقت استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’کشمیر کا مسئلے کا واحد حل مذاکرات ہے، دونوں ممالک اس مسئلے کو بیٹھ کر حل کریں تاہم دونوں ممالک کے درمیان ایران ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے‘‘۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، 11 سالہ ننھا طالب علم جاں بحق

انہوں نے کہا کہ  پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات ماضی کی نسبت مضبوط ہورہے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان آئی پی، بجلی کی فراہمی، مشترکہ اقتصادی منصوبوں سمیت کئی اہم منصوبوں پر کام تیز رفتاری کے ساتھ جاری ہے، جس کی تکمیل کے بعد دونوں ممالک کے عوام فائدہ اٹھا سکتے ہیں‘‘۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری

مہدی ہنر دوست کا کہنا تھا کہ آئی پی کی تکمیل کے بعد ایرانی گیس پاکستان پہنچ جائے گی جس سے نہ صرف صنعتوں کی صورتحال بہتر ہوگی بلکہ روزگار کے بے شمار مواقع فراہم ہوں گے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی بجلی کی پاکستان آمد سے پاکستان میں توانائی کا مسئلہ حل کرنے میں مدد ملے گی۔

کشمیر سے متعلق:  بھارت نےمقبوضہ کشمیرتک رسائی دینے کی انکار کردیا،انسانی حقوق سیل اقوام متحدہ

ایرانی سفیر نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’یقین ہے کہ اس خطے میں ایران اور پاکستان جیسے قریبی ممالک اور کوئی نہیں، دونوں ممالک مل کر رہ رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ روابط مزید گہرے ہوتے جارہے ہیں‘‘۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں