The news is by your side.

Advertisement

گلستان جوہرمیں چاقومارکا ایک اورخاتون پرحملہ، ملزم فرار

کراچی : گلستان جوہر میں خواتین پر چھرے کے وار سے زخمی کرنے والے ملزم کی فوٹیج اے آر وائی نیوز نے حاصل کرلی، فوٹیج میں ملزم کو خاتون پر وار کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے گلستان جوہر کی خواتین پر چھرا مار کا خوف طاری ہے، خواتین کو چھرے کے وار سے زخمی کرنے والے ملزم کی فوٹیج اے آر وائی نیوز نے حاصل کرلی۔

فوٹیج میں موٹر سائیکل سوار ملزم کو ایک خاتون کو زخمی کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ملزم نے چلتی موٹرسائیکل سے تیزدھار آلے سے خاتون پروار کیا۔

خاتون ملزم کے پیچھے بھاگی لیکن ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا، ایس پی گلشن اقبال کے مطابق ایسے واقعات کی اب تک پانچ ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں، پولیس نے ملزم سے مماثلت رکھنے والے چھ افراد کو حراست میں لیا اور ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا۔

اے آر وائی نیوز کی خبر پولیس ایکشن میں آگئی، پولیس کے مطابق ایک ٹیم تفتیش کے لئے جامعہ کراچی بھی گئی، دوسری جانب ترجمان جامعہ کراچی کا کہنا ہے کہ پولیس نے اس سلسلے میں اب تک ہم سے کوئی باضابطہ رابطہ نہیں کیاہے۔

ایک ملزم کو پکڑنے کیلئے چار ادارے سرگرم

خواتین پرچاقو سےحملہ کرنیوالےملزم کی چار اداروں کو تلاش ہے، آپریشن پولیس، انویسٹی گیشن پولیس زون ون، رینجرز اور ایس آئی او ملزم کو گرفتار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

سندھ پولیس کا اسپیشلائزڈ یونٹ تفتیش کیلئے گلستان جوہرپہنچ گیا، افسران تحقیقات کیلئے جائے وقوعہ پہنچے ہیں،ایس ایس پی ایس آئی یو طارق دھاریجو کے مطابق تفتیشی افسران شواہدکی مدد سے کیس پرکام کررہے ہیں۔

اس کے علاوہ سادہ لباس اہلکاروں کی ٹیم بھی گلستان جوہرکے مخصوص علاقے میں تعینات کی گئی ہے۔


مزید پڑھیں: کراچی: چاقو بردار گروہ سرگرم، خواتین پر حملوں کا انکشاف


واضح رہے کہ شہر قائد کے علاقے گلستان جوہر میں کچھ دنوں سے خواتین پر چاقو سے حملے کئے جا رہے ہیں،
جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے اور خواتین تنہا گھروں سے نکلتے ہوئے کترانے لگی ہیں۔


مزید پڑھیں: کراچی: چاقو کے وار سے ایک اور خاتون زخمی، تعداد سات ہوگئی


گزشتہ دو روز کے درمیان سات زخمی خواتین کو لایا گیا جنہیں چھریوں کے وار سے زخمی کیا گیا تھا، پولیس ملزم کو گرفتار کرنے میں تاحال ناکام ہے اور اس کی گرفتاری کیلئے پانچ لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں