The news is by your side.

Advertisement

ہوائی فائرنگ پر اقدام قتل کی دفعہ کیوں نافذ نہیں ہوتی؟ وجہ جانئے

ملک بھر میں ہوائی فائرنگ کرنا معمول بن گیا ہے، تقریبات ہوں یا سال نو کا آغاز منچلوں کی جانب سے ہوائی فائرنگ کی جاتی ہے، افسوس کی بات یہ ہے کہ ہوائی فائرنگ کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ بھی کردی جاتی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں آج اس اہم مسئلے پر گفتگو کی گئی، پنجاب پولیس کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں سال تین سو سے زائد افراد کو سوشل میڈیا پر ہوائی فائرنگ کی ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا۔

لاہور میں اسی تناظر میں ایک خاتون کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی، جنہوں نے ہوائی فائرنگ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی تھی، ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خاتون کتنی مہارت کے ساتھ فائرنگ کررہی ہیں، بعد ازاں عائشہ نامی خاتون کو پولیس نے ٹریس کرتے ہوئے گرفتار کرلیا تھا۔

اس اہم مسئلے پر ایس ایس پی انویسٹی گیشن غفار قیصرانی نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہوائی فائرنگ کے واقعات روکنے کے لئے کے پی حکومت نے ایک قانون پاس کیا ہے، تاہم ابھی دیگر صوبوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا۔

کے پی حکومت کی جانب سے دفعہ تین سو سینتس ایچ ٹو کا نفاذ پاکستان پینل کوڈ کے تحت کیا، جس میں ہوائی فائرنگ کرنے والے شخص کو تین ماہ قید کی سزا کا تعین کیا ، لیکن جبکہ جرمانہ تعین نہیں کیا گیا ہے اور اسے مجسٹریٹ کی صوابدیدی پر رکھا گیا ہے۔غفار قیصرانی نے بتایا کہ اگر ہوائی فائرنگ کے دوران کوئی شخص زخمی یا جاں بحق ہوتا ہے تو اس پر دفعہ تین سو چوبیس کے تحت اقدام قتل کا پرچہ درج ہوگا، اگر ہوائی فائرنگ سے کوئی جانی نقصان نہ ہوتو اس میں اقدام قتل کی دفعات میں شامل نہیں کیا جاسکتی۔

واضح رہے کہ سال دوہزار بیس کے آغاز کے موقع پر لاہور میں تیرہ ماہ کی بچی جاں بحق جبکہ کئی افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ کراچی میں سال نو پر فائرنگ کے واقعات میں اٹھارہ افراد زخمی ہوئے تھے، کراچی پولیس نے سال نو پر ہوائی فائرنگ کے اقدامات کو روکنے کے لئے سخت کارروائی کی تھی اس دوران ایک سو تین افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں