ہفتہ, مئی 25, 2024
اشتہار

آڈیو لیکس تحقیقات: جوڈیشل کمیشن کا تمام مبینہ آڈیوز کھلی عدالت میں چلانے کا فیصلہ

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : آڈیو لیکس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے تمام مبینہ آڈیوز کھلی عدالت میں چلانے کا فیصلہ کرتے ہوئے میاں ثاقب نثار سمیت مبینہ آڈیوز کا حصہ افراد کو بطور گواہ طلب کرنے کا عندیہ دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس ہوا ، جس میں جوڈیشل کمیشن نے تمام مبینہ آڈیوز کھلی عدالت میں چلانے کا فیصلہ کرلیا اور تمام مبینہ آڈیوز کا ٹرانسکرپٹ طلب کرلیا۔

کمیشن نے مبینہ آڈیوز میں دو طرفہ گفتگو کرنیوالے افراد کو بطور گواہ طلب کرنے اور میاں ثاقب نثار سمیت مبینہ آڈیوز کا حصہ افراد کو بطور گواہ طلب کرنے کا عندیہ دے دیا۔

- Advertisement -

اجلاس کے حکمنامے میں کہا گیا کہ کمیشن اجلاس میں پنجاب فرانزک ایجنسی کا نمائندہ عدالت میں موجود رہے، کوئی فرد انکار کرے کہ میری آواز نہیں تو پنجاب فرانزک ایجنسی نمائندہ معاونت کرے۔

اسلام آباد:جوڈیشل انکوائری کمیشن کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوگا، قابل احترام خواتین کےبیانات کی ضرورت پیش آئی تو لاہور میں بھی اجلاس ہوسکتاہے۔

جوڈیشل انکوائری کمیشن نے مبینہ آڈیوز کی فہرست طلب کرلی اور کہا نوٹسز وفاقی حکومت مقرر کردہ افسر یا کوئیر کے ذریعے بھیجے، جس شخص کو نوٹس بھیجا جائے اسکی نوٹس وصولی کی تصویر اتاری جائے۔

حکمنامے کے مطابق نوٹس ایک سے زائد بار جاری کیا جائے، بار بار نوٹس بھیجنے کے باوجود وصول کرنیوالے فرد کے گھر کے باہر نوٹس چسپاں کرکے تصویر بنائی جائے۔

اٹارنی جنرل ریکارڈنگ کا مصدقہ ٹرانسکرپٹ، نام پتہ فراہم کریں،اگر کوئی تیسرا فرد جرح کرنا چاہے تو اسے یہ حق حاصل ہوگا، کمیشن کی کارروائی کا حکمنامہ اٹارنی جنرل کی ویب سائٹ پہ آویزاں کیا جائے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ پتہ نہیں خبریں لگا دی جاتی ہیں میں ہر خبر پروضاحت نہیں دے سکتا، میری عادت ہے میں کھلی عدالت میں سب کچھ لکھوا دیتا ہوں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے مکالمے میں کہا کہ آپ نے میری چھٹیاں متاثر کی ہیں، ویسے بھی آگے سپریم کورٹ کی چھٹیاں ہونے جا رہی ہیں،جوڈیشل کمیشن کارروائی خوشگوار ماحول میں ہونے کی توقع ہے۔

Comments

اہم ترین

راجہ محسن اعجاز
راجہ محسن اعجاز
راجہ محسن اعجاز اسلام آباد سے خارجہ اور سفارتی امور کی کوریج کرنے والے اے آر وائی نیوز کے خصوصی نمائندے ہیں

مزید خبریں