The news is by your side.

طالبان کی قید میں اسلام قبول کرنے والے آسٹریلوی پروفیسر افغانستان پہنچ گئے

کابل: طالبان کی قید میں اسلام قبول کرنے والے آسٹریلوی پروفیسر ٹموتھی ویکس ایک بار پھر افغانستان پہنچ گئے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 53 سالہ آسٹریلوی پروفیسر ٹموتھی ویکس (اسلامی نام جبرائیل عمر) افغانستان میں امارت اسلامیہ کی حکومت کے قیام کے ایک سال مکمل ہونے کی خوشی میں کابل پہنچے ہیں۔

آسٹریلوی پروفیسر ٹموتھی ویکس گزشتہ روز افغانستان پہنچے، اس موقع پر انہوں روایتی افغانی لباس میں زیب تن کیا ہوا تھا، کابل ائیرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے افغانستان کے بارے میں جاننے کا خواب لے کر یہاں آئے تھا اور اب میں اپنا سفر مکمل کرنے کے لیے دوبارہ آ رہا ہوں۔

اس سے قبل آسٹریلیوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے طالبان کی حکومت کی سالگرہ کے موقع پر افغانستان کے دورے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وہ خود کو "ایک افغان اور ایک پشتون” سمجھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "میں دنیا سے کہتا ہوں کہ طالبان کو سمجھیں اور انہیں وقت دیں۔

یہ بھی پڑھیں: طالبان نے گرفتار برطانوی شہریوں کو رہا کردیا

خیال رہے کہ آسٹریلوی پروفیسر ٹموتھی ویکس کو 2016 میں امریکی ساتھی سمیت یونیورسٹی کے قریب سے طالبان نے اغوا کرکے یرغمال بنا لیا تھا، طالبان نے تین سال بعد 2019 میں اپنے تین رہنماؤں کی رہائی کے بدلے دونوں پروفیسرز کو رہا کیا تھا تاہم اس وقت ٹموتھی ویکس اسلام قبول کرچکے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں