The news is by your side.

Advertisement

امریکا میں سفاک پولیس اہلکاروں کی ماں کے سامنے ذہنی معذور بچے پر فائرنگ

واشنگٹن : آٹزم کا شکار بچے کی مدد کےلیے بلائے پولیس اہلکاروں نے ذہنی طور پر بچے پر گولیاں برسا دیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکا میں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شہریوں کے ساتھ ساتھ ذہنی طور پر معذور افراد کی جان بھی محفوظ نہیں ہے، گزشتہ روز امریکی پولیس اہلکاروں کی جانب سے آٹزم کے شکار 13 سالہ بچے پر فائرنگ کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بچے کی والدہ گولڈا بارٹن طویل عرصے بعد اپنے دفتر تو پہنچی تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کے بچے کی طبعیت بگڑگئی ہے جس پر انہوں نے 911 کو کال کرکے بچے کی باحفاظت اسپتال منتقل کرنے کا کہا۔

گولڈا بارٹن کا کہنا ہے کہ امریکی پولیس اہلکاروں کے ساتھ میں بھی گھر پہنچ گئی تھی اور میں نے پولیس اہلکاروں کو بتایا کہ وہ ذہنی طور پر معذور ہے صرف چیخ پکار کرتا ہے اس سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن انہوں نے مجھے کمرے میں آنے سے منع کیا۔

پولیس کے کمرے میں داخل ہونے کے بعد چند منٹ بعد آوازیں آئیں کہ زمین پر لیٹوں اور پھر گولی چلنے کی آواز آئی۔

آٹزم کے شکار بچے کی والدہ کا کہنا ہے کہ میرے بچے کو ذہنی معذوری کے باوجود ہتھکڑیاں لگاکر گولی ماری گئی، انہوں نے حکام بالا نے مطالبہ کیا ہے کہ گولی چلانے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں