site
stats
پاکستان

خیبر پختونخواہ میں پرائیوٹ اسکول کے بجائے سرکاری اسکول والدین کی پہلی ترجیح بن گئے

پشاور: حال ہی میں کیے گئے سروے کے مطابق خیبرپختونخواہ میں سرکاری اسکولوں کے بڑھتے ہوئے معیار کے باعث والدین اپنے بچوں کوپرائیوٹ اسکولوں سے اُٹھوا کر سرکاری اسکول میں داخل کروارہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخواہ حکومت کی جانب سے تعلیمی میدان میں کیے جانے والے انقلابی اقدامات کے ثمرات سامنے آنے لگے ہیں،خیبر پختونخواہ کے سرکاری اسکول والدین کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور اب والدین اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے پرائیوٹ اسکولوں کے بجائے سرکاری اسکولوں کا رخ کرنے لگے ہیں۔

اس سلسلے میں محکمہ پرائمری سکینڈری اسکول ایجوکیشن نے بین الاقوامی انعام یافتہ ادارے ایڈم اسمتھ انٹرنیشنل کے ذریعے سروے کروایا ہے،سروے میں حاصل شدہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2015 سے مارچ 2016 کے دوران 34 ہزار بچوں کا پرائیوٹ اسکولوں سے نکلوا کر سرکاری اسکولوں میں داخلہ کروا گیا ہے۔

سروے کے مطابق خیبر پختونخواہ کے 66 فی صد والدین نے رضارارانہ طور پراپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے پرائیوٹ اسکولوں کے بجائے سرکاری اسکولوں کو پہلی ترجیح کے طور پر چنا ہے،اور اسکی وجہ تعلیمی معیار میں اضافہ بتایا ہے۔

بین الاقوامی طور پر مانے جانے والے مستند اور بااعتبار ادارے ایڈم اسمتھ انٹرنیشنل کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق ایک سال کے دوران اپنے بچوں کو پرائیوٹ اسکولوں سے اُٹھا کر سرکاری اسکول میں داخلہ کروانے والدین میں سے 96 فی صد والدین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دوسرے بچوں کو بھی سرکاری اسکولوں میں داخل کروائیں گے۔

حالیہ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں تعلیم کا معیار نہ صرف بلند ہوا ہے بلکہ اس نے پرائیوٹ اسکولوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے،اور اب خیبر پختونخواہ کے بچے معیاری تعلیم سستے سرکاری اسکولوں میں حاصل کر سکیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top