The news is by your side.

Advertisement

عمران خان کی دستاویزات من گھڑت ہیں‘ عائشہ گلالئی

اسلام آباد: عائشہ گلالئی نے الیکشن کمیشن سے عمران خان کے دستاویزات مسترد کرنے کی استدعا کردی اور کہا کہ عمران خان کے جمع کرائے گئے دستاویزات من گھڑت ہیں، تسلیم نہ کیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 4 رکنی بنچ نے گلالئی سے متعلق درخواست پر سماعت کی، سماعت میں عمران خان کے وکیل سکندر مہمند الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے جبکہ عائشہ گلالئی کے وکیل بیرسٹر مسرور الیکشن کمیشن میں پیش نہ ہوسکے۔

عائشہ گلالئی نےالیکشن کمیشن میں جواب جمع کرادیا ، جواب میں عائشہ گلالئی نے عمران خان کے دستاویزات مسترد کرنے کی استدعا کی، جواب میں کہا گیا ہے کہ اسپیکرقومی اسمبلی کو بھیجے گئے ریفرنس میں شوکاز نوٹس نہیں لگایا گیا، جمع کرائے گئےاضافی دستاویزات کو تسلیم نہ کیا جائے، بعد میں جمع کرائے گئے دستاویزات من گھڑت ہیں۔

عائشہ گلالئی کی جانب سے جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ 29 جولائی کوبنی گالا میں اجلاس سےمتعلق اطلاع نہیں دی گئی تھی، پارٹی میٹنگ کے لیے پہنچی تو اجلاس ختم ہو چکا تھا ، وزیر اعظم کےانتخاب میں پارٹی امیدوار سے متعلق کسی نے آگاہ نہیں کیا۔

بعد ازاں عائشہ گلالئی کی جانب سے الیکشن کمیشن میں اضافی دستاویزات بھی پیش کی گئی اور وکیل نے الیکشن کمیشن سے دلائل کیلئے وقت مانگ لیا، جس پر الیکشن کمیشن نے سماعت 10 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔


مزید پڑھیں : عمران خان کا عائشہ گلالئی کوپارٹی سے نکالنے کا فیصلہ


یاد رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے عائشہ گلالئی کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن اور اسپیکر قومی اسمبلی سے بھی کارروائی کی درخواست کی تھی۔

عمران خان نے عائشہ گلالئی کو آخری نوٹس بھجواتے ہوئے نوٹس کی کاپی اسپیکر قومی اسمبلی ،چیف الیکشن کمیشن کو بھی بھجوا دی تھی۔

سربراہ تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ عائشہ گلالئی کیخلاف آرٹیکل63 اے کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے، معطلی کے بعد شوکازنوٹس کا جواب دینے میں بھی ناکام رہیں ہیں۔

واضح رہے کہ عائشہ گلالئی نے تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کیا اور پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی پر سنگین الزام جبکہ عمران خان اور رہنماؤں کے کردار پرانگلی اٹھادی تھی۔


مزید پڑھیں :  تحریک انصاف میں خواتین کی عزت محفوظ نہیں، عائشہ گلالئی


عائشہ گلالئی نے کہا تھا کہ پارٹی میں عزت دارخواتین کی عزت نہیں، چئیرمین خود بھی خواتین کی عزت نہیں کرتے، پارٹی میں اخلاقیات نہیں اس لیے چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین اور قیادت خواتین کارکنان کو نازیبا میسجز کرتی ہے، جس کی وجہ سے کئی خواتین کارکنان نالاں ہیں، میں این اے ون کا ٹکٹ نہیں مانگا، نہ ہی جلسے میں تقریر کا معاملہ تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں