The news is by your side.

عائزہ خان سنڈریلا بن گئیں، نئی تصاویر وائرل

اے آروائی ڈیجیٹل کے شہر آفاق ڈرامے ’میرے پاس تم ہو‘ میں مہوش کا کردار ادا کرنے والی پاکستانی اداکارہ عائزہ خان سنڈریلا بن گئیں۔

اداکارہ عائزہ خان کی انٹرنیٹ پر نئی تصاویر وائرل ہوئیں، جس میں وہ نامور افسانوی کردار (سنڈریلا) کا لباس زیب تن کر کے کھڑی ہیں۔

یہ تصاویر ایک نجی برانڈ کی ہیں، جو لاہور کے نجی ہوٹل میں کیمرے میں محفوظ کی گئیں۔

سنڈریلا کون تھی؟

سنڈریلا ایک افسانوی کردار ہے، یہ کہانی یقیناً آپ نے بچپن میں سُنی یا پڑھی ہوگی مگر ہم آپ کو ایک بار پھر سناتے ہیں۔

سنڈریلا دراصل ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی تھی، جس کے والد کو اکثر کاروبار کے سلسلے میں دوسرے شہر جانا پڑتا تھا، اسی دوران اُس کی والدہ بیمار ہوئیں اور وہ اسی دوران انتقال کر گئیں۔

بعد ازاں والد نے بیٹی (سنڈریلا) کی وجہ سے دوسری شادی کی تو سوتیلی والدہ کے سلوک سے سنڈریلا کو بہت سے مصائب کا سامنا کرنا پڑا اور پھر وقت کا پہیہ گھوما تو اُس کی قسمت بدل گئی۔

ایک روز بادشاہ نے اپنے بیٹے شہزادہ کے لیے دلہن کی تلاش میں تقریب کے انعقاد کا اعلان کیا اور  شہر کی تمام غیر شادی شدہ لڑکیوں کو شرکت کی خاص ہدایت کی۔سب لوگ یہ اعلان سن کر بہت خوش ہوۓ، سنڈریلا کی بچپن سے خواہش تھی کے وہ محل دیکھے، مگر اس کی سوتیلی ماں اور بہنوں نے اسے وہاں جانے منع کیا ہوا تھا۔

سنڈریلا کی سوتیلی ماں نے کہا تم اپنی بہنوں کو تیار ہونے میں مدد کرو اور یہ بھی کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ شہزادہ پہلی نظر میں ہی میری دونوں بیٹیوں میں سے ایک کو پسند کرلے۔ سنڈریلا دل کی بہت اچھی تھی اس نے اپنی سوتیلی ماں کو انکار نہ کیا اور بہنوں کو تیار کیا۔ اس کا بات کا بدلہ اسے یہ ملا کہ اس کی سوتیلی ماں اسے کمرہ میں بند کرگئی۔

سنڈریلا پہلے تو اپنے کمرے میں اکیلی بیٹھی روتی رہی پھر اسے خیال آیا کہ وہ اپنی امی کا شادی کا جوڑا پہن کر پارٹی میں چلی جاتی ہے۔ جب اس نے جوڑا نکال کردیکھا تو وہ جگہ جگہ سے پھٹا ہوا تھا۔ سنڈریلا نے اسے سلائی کرنے کی کوشش کی جس میں اس کی مدد کو اس کے دوست چوہے اور پرندہ اس کی مدد کرنے لگے۔ پھر سنڈریلا نے خیال کیا کہ اس جوڑے کو ٹھیک کرنے میں اسے کافی وقت لگ جائیں گا اور ہوسکتا ہے پارٹی بھی ختم ہوجاۓ۔ یہ سوچ کر وہ مایوس ہوکر بیٹھ گئی۔

سنڈریلا تقریب میں پہنچی جہاں اُس کی شہزادے سے ملاقات ہوئی،  وہ خوشی سے یہ بھول ہی گئی تھی کہ اس نے آدھی رات ہونے سے پہلے گھر واپس جانا ہے۔ پھر اچانک سنڈریلا کی نظر گھڑی پر پڑی، تو اسے پری کی بات اسی وقت یاد آگئی کیونکہ آدھی رات ہونے میں صرف چند منٹ باقی تھے۔

سنڈریلا نے جلدی میں شہزادے سے اجازت مانگی اور محل سے باہر کی طرف بھاگنے لگی کے اچانک اس کا شیشے کا جوتا اس کے پاؤں سے اتر گیا اور اس نے جلد بازی میں پرواہ نہ کی اور بگی میں بیٹھی اور وہاں سے چلے روانہ ہوگئی۔ شہزادے بھی سنڈریلا کے پیچھا بھاگا مگر اسے صرف شیشہ کا جوتا ہی سنڈریلا کی نشانی کے طور پر ملا۔

اگلے روز شہزادے نے سنڈریلا کی تلاش شروع کی۔ سارے گاؤں کی لڑکیوں کو جوتا پہنا کردیکھا گیا لیکن کسی کو پورا نہ آیا۔ بلآخر وہ سنڈریلا کے گھر پہنچے اور سنڈریلا کی سوتیلی ماں سے بیٹیوں کی شرکت کا پوچھا تو انہوں نے اپنی دونوں بیٹیوں کی شرکت کا بتایا،  جس پر شاہی محل کے ملازمین نے انہیں جوتا پہنایا مگر نہ آیا۔

 شہزادے نے پوچھا ان کے علاوہ آپ کی کوئی اور بیٹی ہے تو اس کی سوتیلی ماں نے صاف جواب دے دیا۔ شہزادہ مایوسی سے وہاں سے جانے لگا کے اچانک اسے سنڈریلا کے رونے کی آواز آئی تو شہزادے نے ملازموں کو حکم دیا اور کہا پورے گھر میں لڑکی کو تلاش کیا جاۓ۔ ایک ملازم کمرے کے باہر پہنچا تو دروازے پر تالا لگا ہوا تھا، ملازم نے تالے کو توڑا تو اندر اسے سنڈریلا بیٹھی ملی، جب سنڈریلا کو جوتا پہنایا گیا تو اسے پورا آگیا۔

اس پر شہزادے نے سنڈریلا کو اسی وقت شادی کی پیش کش کی اور ان دونوں کی شادی کروا دی گئیپھر شہزادہ اور سنڈریلا دونوں ہنسی خوشی محل میں رہنے لگے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں