تازہ ترین

پاکستان کو آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر قرض پروگرام کی توقع

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ...

اسرائیل کا ایران پر فضائی حملہ

امریکی میڈیا کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آرہا...

روس نے فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کی حمایت کردی

اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا غزہ کی صورتحال کے...

بابر اعظم کو دوبارہ قومی ٹیم کا کپتان بنانے کا فیصلہ ہو گیا

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بابر اعظم کو ایک بار پھر قومی ٹیم کا کپتان بنانے کا گرین سگنل دے دیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کو پی سی بی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق نئی سلیکشن کمیٹی نے قومی ٹیم کی قیادت کا تاج ایک بار پھر سابق کپتان بابر اعظم کے سر پر سجانے کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے اور جلد ہی باضابطہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کی قیادت کے لیے ان کے نام کا اعلان ہو جائے گا۔

سابق کپتان بابر اعظم جنہوں نے گزشتہ سال ایشیا اور ورلڈ کپ میں ٹیم کی ناقص کارکردگی کے بعد قیادت چھوڑنے کا اعلان کیا تھا اور پی سی بی نے ان کی جگہ ٹیسٹ میں شان مسعود اور ٹی ٹوئنٹی میں شاہین شاہ کو کپتان بنایا تھا تاہم شاہین شاہ پی سی بی کی توقعات پر پورا نہ اترے۔

نیوزی لینڈ میں ٹی ٹوئنٹی سیریز میں چار ایک سے شکست کے بعد پی ایس ایل 9 میں شاہین شاہ کی قیادت میں لاہور قلندر کی ناقص پرفارمنس نے بھی ان کے کیس کو کمزور کیا۔

 

بورڈ میں تبدیلی آئی اور محسن نقوی کے چیئرمین بنتے ہی کپتان کے حوالے سے بیان نے شاہین کے مستقبل پرسوالیہ نشان لگا دیا۔ نئی سلیکشن کمیٹی بنی تو اس نے بھی قیادت کے لیے اپنا ووٹ بابر اعظم کے حق میں دیا۔ جس کے بعد ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز بابر اعظم کی پی سی بی چیئرمین محسن نقوی سے بھی ملاقات ہو چکی ہے۔

بابر اعظم جو عمرے کی ادائیگی کے بعد آج کاکول اکیڈمی میں جاری قومی کرکٹرز کے فٹنس ٹریننگ کیمپ کو جوائن کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بابر اعظم آئندہ ماہ نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ہوم سیریز میں ایک بار پھر پاکستان کرکٹ ٹیم کے قائد کے طور پر میدان میں اتریں گے جس کا جلد اعلان متوقع ہے۔

نیا کپتان کون؟ سفارشات چیئرمین پی سی بی کو ارسال

اگر بطور قائد شاہین اور بابر کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو شاہین شاہ آفریدی کو تو صرف ایک سیرز میں ہی کپتانی کا موقع ملا جب کہ بابر اعظم نے لگ بھگ چار سال تک قومی ٹیم کی قیادت کی۔ اس دوران پاکستان نے 71 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جن میں 42 میں فتح ملی جب کہ 23 میں شکست ہوئی۔

Comments

- Advertisement -