The news is by your side.

Advertisement

بچے فروخت کرنے والے منظم نیٹ ورک کا انکشاف، ہسپتال بھی ملوث

یروان: سابق سوویت یونین کے ملک آرمینیا میں بچے فروخت کرنے والے ایک منظم نیٹ ورک کا انکشاف ہونے کے بعد پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

رواں برس نومبر میں آرمینیا کی سیکیورٹی فورسز نے ایک ایسے گروہ کی نشاندہی کی تھی جو بچے فروخت کرنے کے مذموم دھندے میں ملوث تھا اور حکام کے مطابق یہ کام کئی برسوں سے ان کی ناک کے نیچے جاری تھا۔

جب اس بارے میں تفتیش ہوئی تو انکشاف ہوا کہ ملک کے کئی اداروں کے اعلیٰ حکام بھی اس کام میں ملوث تھے جن میں اعلیٰ حکومتی عہدیدار، پولیس افسران، میٹرنٹی ہومز میں کام کرنے والے ملازمین و انتظامیہ اور ملک میں جا بجا قائم یتیم خانوں کی انتظامیہ شامل ہے۔

اس گروہ کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب انہوں نے 30 نومولود بچے ایک ساتھ اٹلی سے تعلق رکھنے والے مختلف افراد کو گود دلوائے۔

اب تک اس اسکینڈل میں ملوث ملک کی ایک معروف گائنا کالوجسٹ، ایک یتیم خانے کے سربراہ اور دیگر حکام کو پکڑا گیا ہے جو سالوں سے اس مذموم فعل میں مصروف تھے۔

آرمینیا کے وزیر اعظم نے اس معاملے کی مؤثر اور مکمل تفتیش کا حکم دیا ہے۔ حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں جب یہ معاملہ اٹھایا گیا تو انہوں نے بھرپور غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس طرح کا کوئی گروہ کیسے پھل پھول سکتا ہے۔

تفتیش میں انکشاف ہوا کہ اس گروہ کے ارکان نے ابارشن کی خواہشمند خواتین کو مجبور کیا کہ وہ بچے کو جنم دیں اور بعد ازاں اسے ایڈاپشن کے لیے دے دیں۔

آرمینیا کی نائب وزیر برائے لیبر کا کہنا ہے کہ حکام اس کیس کی ہر پہلو سے چھان بین کر رہے ہیں۔ یہ بھی سامنے آیا کہ مقامی افراد سے زیادہ غیر ملکیوں کو بچے فروخت کیے گئے جس کے بعد تفتیش کا دائرہ دیگر ممالک تک بھی پھیلایا جاسکتا ہے۔

اس گروہ کی گرفتاری کی خبروں کے بعد اب تک کئی مائیں سامنے آئی ہیں جن کا کہنا ہے کہ ان کے نومولود بچے ان سے چھینے گئے یا انہیں غائب کردیا گیا۔

ایسی ہی ایک 35 سالہ ماں نے اے ایف پی کو بتایا کہ 16 سال کی عمر میں انہوں نے ایک ناجائز تعلق کے نتیجے میں ایک بیٹی کو جنم دیا تھا۔ ان کی بیٹی کی پیدائش اسی گائناکالوجسٹ کے ہاتھوں ہوئی جو اب پولیس کی حراست میں ہے۔

خاتون کا کہنا ہے کہ گائنا کالوجسٹ اور اس کے ساتھ مل کر دیگر افراد نے انہیں دھمکیاں دیں کہ وہ بچی کے باپ کو پولیس کے حوالے کردیں گے۔ ’انہوں نے زبردستی مجھ سے ایک دستاویز پر دستخط لیے جس کے مطابق میں نے اپنی مرضی سے اپنا بچہ ایڈاپشن کے لیے ان کے حوالے کردیا‘۔

خاتون کا کہنا ہے کہ 3 دن بعد گھر جانے کے لیے جب انہوں نے اپنی بیٹی کو ساتھ لینا چاہا تو انہیں علم ہوا کہ وہ میٹرنٹی وارڈ سے غائب ہوچکی تھی۔ انہیں بتایا گیا کہ ان کی بیٹی کو ایک یتیم خانے میں بھیج دیا گیا ہے، تاہم انہیں اس یتیم خانے میں اپنی بیٹی کا کوئی سراغ نہیں ملا، ’مجھے یقین ہے کہ اسے اسپتال سے ہی فروخت کیا جاچکا تھا‘۔

کیس میں متاثرین کی حیثیت سے پیش ہونے والی خواتین میں سے ایک کے وکیل کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عہدیداران اور پولیس افسران کے ملوث ہونے کی وجہ سے یہ نیٹ ورک منشیات فروشی کے مافیاز سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔

ان کے مطابق اس نیٹ ورک نے ملک کو ایسی جگہ بنا دیا ہے جہاں بچے پیدا کر کے دوسری جگہوں پر فروخت کیے جائیں۔

غیر ضروری یتیم خانے

اس اسکینڈل نے ایک طرف تو ملک بھر میں اشتعال کی لہر دوڑا دی ہے، تو دوسری طرف عوام کے اس مطالبے کو بھی تقویت دی ہے جس میں لوگ ملک میں جابجا کھلے یتیم خانوں کے خلاف ہیں۔

ان یتیم خانوں کا مصرف سوائے اس کے کچھ نہیں کہ یہاں غیر ضروری طور پر بچوں کو لا کر رکھا جاتا ہے کیونکہ والدین غربت یا معذوری کے سبب اپنے پیدا ہونے والے بچوں کو ان یتیم خانوں میں چھوڑ جاتے ہیں۔

ایک طویل عرصے سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ سنہ 2023 تک ان یتیم خانوں کو بند کر کے یہاں موجود بچوں کو ان کے والدین کو واپس لوٹا دیا جائے۔

سنہ 2017 میں ہیومن واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق ان یتیم خانوں میں غیر ضروری طور پر پلنے والے بچوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ ان میں سے 90 فیصد بچے ایسے ہیں جن کے والدین میں سے کوئی ایک زندہ موجود ہے۔

اسی طرح 70 فیصد بچے ایسے ہیں جو کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہیں اور ان کے والدین کا انہیں یہاں چھوڑ دینا نہایت ظالمانہ اور غیر انسانی فعل قرار دیا جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں