The news is by your side.

’ماں کے رحم میں بچے کھانے کے ذائقے پر ردعمل دیتے ہیں‘ تحقیق

کیا ماں کے رحم میں بچے ذائقہ اور بو پر ردعمل کا اظہار کرتے ہیں؟ جواب نے ماہرین کو حیران کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اس سوال کا جواب جاننے کے لئے سائنسدانوں نے سو حاملہ خواتین کے 4D الٹراساؤنڈ اسکین کیے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان کے پیدا ہونے والے بچوں نے اپنی ماؤں کے کھانے کے ذائقوں پر کیا ردعمل ظاہر کیا۔

محققین نے حاملہ خواتین کو کیلے اور گاجر کھلائی اور ان ذائقوں پر جنین کے ردعمل کا اظہار کرنے کا انوکھا تجربہ دیکھا محققین ششد رہ گئے کہ وہ مائیں جنہوں نے گاجر کا استعمال کیا، ان کے جنینوں نے "ہنسی والے چہرے” کا رد عمل ظاہر کیا جبکہ کیلے کھانے کے بعد جنینوں نے "رونے والے چہرے” کے ردعمل دیا۔

اس تحقیقی ٹیم میں آسٹن یونیورسٹی، برمنگھم، برطانیہ اور نیشنل سینٹر فار سائنٹیفک ریسرچ، یونیورسٹی آف برگنڈی، فرانس کے سائنسدان بھی شامل تھے، جنہوں نے 32 تا 36 ہفتوں کے حمل والے 18 سے 40 سال کی ماؤں کو دیکھنے کے لیے اسکین کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کیا گلابی نمک سے وزن میں کمی کی جا سکتی ہے؟

لیڈ ریسرچر بیزا استن، جنین اور نوزائیدہ ریسرچ لیب، ڈپارٹمنٹ آف سائیکالوجی، ڈرہم یونیورسٹی میں پوسٹ گریجویٹ محقق نے نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ متعدد مطالعات نے تجویز کیا تھا کہ بچے رحم میں ذائقہ اور
سونگھ سکتے ہیں، لیکن وہ پیدائش کے بعد کی بنیاد پر ہیں جبکہ ان نتائج نے ہمیں حیران کردیا ہے۔

بعد ازاں ہر اسکین سے تقریباً 20 منٹ قبل حاملہ ماؤں کو ایک کیپسول دیا گیا تھا جس میں تقریباً چار سو ملی گرام گاجر  اور گوبھی تھی۔

یہ مطالعہ جرنل سائیکولو جیکل سائنس میں شائع ہوا ہے۔

ان سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے اسکین سے ایک گھنٹہ قبل کوئی ذائقہ دار کھانا یا مشروبات کا استعمال نہ کریں، تاکہ حمل میں بچے کے عوامل کو پتا لگایا جاسکے۔

محقیق کا کہنا ہے کہ اسکین کے دوران گوبی کا پتہ یا گاجر کے ذائقوں پر غیر پیدائشی بچوں کا رد عمل دیکھنا اور ان لمحات کو والدین کے ساتھ بانٹنا واقعی حیرت انگیز تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں