The news is by your side.

Advertisement

بابری مسجد کی شہادت کے 28 برس: ’آج بھی مسلم عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے‘

اسلام آباد: دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے تاریخی بابری مسجد کی شہادت کے 28 سال گزرنے کے باوجود آج بھی بھارت میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔

تاریخی بابری مسجد کی شہادت کے 28 برس مکمل ہونے پر دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بابری مسجد کی شہادت کا واقعہ مسلمان مخالف، مذہبی آزادی اور بین الاقوامی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی تھا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ آج کادن تاریخی بابری مسجدکی شہادت کاغم یاد دلاتا ہے، 1992 کا یہ واقعہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ دنیا کے ہر باشعور شخص کے دماغوں میں آج بھی تازہ ہے۔

مزید پڑھیں: بابری مسجد، عدالتی فیصلے کیخلاف بھارت سے بھی آوازیں‌ اٹھنے لگیں

دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’بابری مسجد کی شہادت نام نہاد جمہوری بھارت کے چہرے پر ایک سیاہ دھبہ ہے جس کو مٹایا نہیں جاسکتا، بھارتی سپریم کورٹ کے ناقص فیصلے کیوجہ سے رام مندرکی تعمیر کی راہ ہموار ہوئی، بھارت میں منظم انداز سے آج بھی مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے‘۔

زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا تھا کہ ’مسلم مخالف اقدامات کے ذریعے بھارت میں مقیم مسلمانوں کو خوفزدہ کیا جارہا ہے، بی جے پی کےمذموم ارادے دراصل بڑھتے ہوئے انتہا پسندانہ نظریے کے عکاس ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بابری مسجد انہدام کیس میں ملزمان کی بریت کا فیصلہ مسترد کردیا

دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’بھارت میں کرونا پھیلانےمیں بھی مسلمانوں کوہی قصور وار ٹھہرایا گیا،بھارت اقلیتوں باالخصوص مسلمانوں ،ان کی عبادت گاہوں ،مقدس مقامات کاتحفظ کرے‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں