The news is by your side.

Advertisement

بابری مسجد کیس کا فیصلہ 9 ماہ میں سنانے کا حکم

نئی دہلی: بھارت کی سپریم کورٹ نے بابری مسجد شہادت کیس کا فیصلہ سنانے کے لیے ڈیڈ لائن دیتے ہوئے حکم جاری کیا کہ مقدمے کی سماعت روزانہ کی جائے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں بابری مسجد کیس کی سماعت ہوئی جس مین عدالت نے کیس سننے والے خصوصی جج کو حکم جاری دیا کہ مقدمے کا فیصلہ ہرصورت میں 9 ماہ کے اندر سنایا جائے۔ سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ گواہان کے بیانات 6 ماہ کے اندر قلم بند کر کے جرح ہر صورت تین ماہ میں مکمل کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے اترپردیش کی حکومت کو ہدایت کی کہ کیس کے خصوصی جج ایس کے یادو کی مدتِ ملازمت تیس ستمبر کو ختم ہورہی ہے جس کو آگے بڑھایا جائے تاکہ مقدمہ اپنے منطقی انجام کو پہنچے۔ بابری مسجد کیس میں بی جے پی کے رہنما ایل کے ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اُوما بھارتی، کلیان سنگھ اور دیگر ملزمان شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: بی جے پی نے منشورکا اعلان کردیا، بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کا عزم

یاد رہے کہ 6 دسمبر1992 کو ایودھیا میں ہندو انتہاء پسندوں نے بابری مسجد کو شہید کردیا تھا، قدیم اور تاریخی مسجد کی عمارت کو شہید کرنے کیلئے پہلی کدال چلانے والے بلبیر سنگھ نے گزشتہ برس اپنی روپوشی ختم کی اور میڈیا پر آگئے تھے۔ انہوں نے سنسنی خیز انکشافات میں بتایا تھا کہ حملے میں آر ایس ایس سمیت دیگر ہندو انتہاء پسند تنظیمیں شامل تھیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں