روئے زمین پر انسان کا ہزاروں سال پہلے اپنی عقل اور علم کی بنیاد پر زندگی اور اس کائنات کو سمجھنے اور کھوجنے کی کوشش کرنا اور پھر تاریخِ عالم میں تہذیب و ثقافت کا رواج پانا، مختلف خطّوں میں سلطنت کا قیام اور شعبہ جات کے تحت مختلف امور کی انجام دہی ایک دل چسپ موضوع ہے۔ یہ کئی اعتبار سے حیران کن و قابلِ توجہ بھی ہے اور جب ہم مٹ جانے والی ہزار ہا سال قدیم تہذیبوں کی بات کرتے ہیں تو اس میں اہلِ بابل ہمیں خاص طور پر متوجہ کرلیتے ہیں۔ اس سے متعلق یہ پارہ آپ کی توجہ کا باعث بنے گا۔
"تاجر ہونے کے ناتے اہلِ بابل کا فن کی نسبت سائنس میں کام یابیاں حاصل کرنا زیادہ قرین قیاس ہے۔ تجارت نے علمِ ریاضی تخلیق کیا اور فلکیات کو جنم دینے کے لیے مذہب سے اتحاد کیا۔
فلکیات اہلِ بابل کی خصوصی سائنس تھی جس کے لیے وہ ساری قدیم دنیا میں مشہور تھے۔ یہاں بھی جادو سائنس کی ماں تھا۔ بابلی کاروانوں اور بحری جہازوں کے راستوں کا جدول تیار کرنے کی خاطر ستاروں کا اتنا مطالعہ نہیں کرتے تھے جتنا کہ انسانوں کا مقدر جاننے کے لیے۔ وہ نجومی پہلے اور فلکیات دان بعد میں تھے۔ ہر سیارہ ایک دیوتا تھا، انسانی معاملات میں دل چسپی اور اہمیت کا حامل۔ مشتری مردوک تھا۔ عطارد نیبو، مریخ نرگل، سورج شمس، چاند سین، زحل ننب اور زہرہ عشتار۔ ہر ستارے کی ہر ہر حرکت کسی ارضی واقعے کا تعین یا پیش گوئی کرتی تھی۔
مثلاً اگر چاند نیچا ہے تو کوئی دور افتادہ قوم بادشاہ کی مطیع ہوجائے گی، اگر چاند ہلالی ہے تو بادشاہ دشمن پر غالب آجائے گا۔ مستقبل کو ستاروں میں سے نچوڑ نکالنے کی اس قسم کی کوششیں بابلیوں کا شوق بن گئیں۔
جوتش میں ماہر پروہتوں نے عوام اور بادشاہ دونوں سے قیمتی انعامات حاصل کیے۔ ان میں سے کچھ مخلص طالبِ علم تھے۔ وہ جوتش کی ضخیم کتابوں پر بڑے جوش و خروش کے ساتھ محنت کرتے جو ان کی روایت کے مطابق اکادی سارگون کے دور میں مرتب کی گئی تھیں۔ انھوں نے اتائیوں شکایت کی جو معاوضے کی خاطر کوئی مطالعہ کیے بغیر ستاروں کی چال پڑھنے یا ایک سال آگے کے موسموں کا حال ہماری جدید جنتریوں کے انداز میں پیشگی بتانے لگے تھے۔
جوتش کے اس مشاہدے اور ستاروں کے جدولوں میں سے علم فلکیات نے آہستہ آہستہ ترقی پائی۔ اہلِ بابل نے 2000 قبل مسیح میں ہی زہرہ سیارے کے شمسی طلوع اور غروب کا بالکل درست حساب بنا لیا تھا۔ انھوں نے مختلف ستاروں کے مقام متعین کر لیے اور آہستہ آہستہ آسمان کا مفصل خاکہ بنا رہے تھے۔”
(مشہور مؤرخ اور فلسفی ول ڈیورانٹ کی عرب اور قدیم تہذیبوں سے متعلق کتاب سے چند سطور۔ اس کے مترجم یاسر جواد ہیں)