The news is by your side.

Advertisement

کمر میں ہونے والا درد کہیں کرونا وائرس کی علامت تو نہیں؟

دنیا بھر کو اپنا نشانہ بنانے والا کرونا وائرس ایک بار پھر اپنے پنجے گاڑ رہا ہے، اب تک اس کی بے شمار علامات سامنے آچکی ہیں تاہم اب ماہرین نے اس کی ایک اور علامت کی طرف اشارہ کیا ہے جس کے بارے میں بہت کم افراد جانتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی ایک علامت مائلجیا بھی ہوسکتی ہے۔ مائلجیا جسم کے مسلز میں ہونے والے درد کو کہا جاتا ہے۔

اس تکلیف میں ہڈیوں اور مسلز کے نرم ٹشوز میں شدید درد اور کھنچاؤ ہوتا ہے جس کی وجہ سے پورے جسم خاص طور پر کمر اور جوڑوں میں درد ہوتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق چین میں کرونا وائرس کے 14 فیصد سے زائد مریضوں نے مائلجیا اور جوڑوں کے درد کی شکایت کی۔

ماہرین کے مطابق کرونا وائرس کا شکار افراد دیگر علامات کی وجہ سے تناؤ کا شکار ہوجاتے ہیں جس کے باعث یہ علامت نظر انداز ہوجاتی ہے، حالانکہ یہ علامت گلے کی سوزش اور سر درد سے بھی زیادہ عام دیکھی جارہی ہے۔

یاد رہے کہ کرونا وائرس کی عمومی علامات بخار، خشک کھانسی، گلے میں سوزش، سینے میں درد اور سانس لینے میں مشکل پیش آنا ہے۔

ماہرین کے مطابق کوویڈ 19 کی کم پائی جانے والی علامات میں معدے کا درد، آنکھوں میں انفیکشن، اور دماغی دھند چھا جانا یعنی واضح طور پر کسی چیز کو نہ سمجھ پانا بھی شامل ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں