The news is by your side.

بارہ دن کی قید

عباسی خلیفہ مامون کی ایک وجہِ شہرت ان کا عدل و انصاف اور عوام النّاس کی خبر گیری کرنا بھی ہے۔

ایک دن خلیفہ کے پاس کسی دور دراز کے علاقے سے ایک آدمی آیا، خلیفہ نے سب سے پہلے پوچھا: "تمہارے قاضی کا کیا حال ہے؟”

اس شخص نے جواب دیا کہ اے امیر المؤمنین ہمارے ملک میں ایک ایسا قاضی ہے جو انصاف نہیں کرتا اور ایک ایسا حکمران ہے جو رحم نہیں کرتا۔

تو خلیفہ نے اس سے پوچھا: یہ تو بڑی عجیب بات ہے، بتاؤ قصہ کیا ہے؟
اس آدمی نے کہا: اے امیر المؤمنین، ایک دن میں نے ایک آدمی کو چوبیس درہم ادھار دیے، میں نے اس شخص سے کہا کہ وہ ایک خاص تاریخ پر مجھے واپس کر دے، کیونکہ مجھے ان کی ضرورت تھی، پھر جب مقررہ وقت آیا تو وہ شخص پہلے تو ٹال مٹول سے کام لیتا رہا پھر قرض کی واپسی سے انکار کر دیا۔ اس لیے میں قاضی کے پاس شکایت لے کر چلا گیا۔

خلیفہ: قاضی نے تمہارے درمیان فیصلہ کیسے کیا؟

آدمی: ” اس شخص کو خلیفہ کے دربار میں لایا گیا تو شکایت سن کر اس نے کہا "اے قاضی خدا تمہیں عزت دے، میرے پاس ایک گدھا ہے، میں اس پر کام کرتا ہوں، اور روزانہ کی اجرت میں مجھے چار درہم دیے جاتے ہیں، جن میں سے میں دو درہم خرچ کرتا ہوں اور دو درہم بچا رکھتا ہوں۔جب بارہ دن گزر گئے اور میرے پاس چوبیس درہم جمع ہوگئے تو میں نے حسب وعدہ اس شخص کو ہر جگہ ڈھونڈا لیکن یہ کہیں نہ ملا۔

قاضی نے اس سے رقم کے بارے میں پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ جب یہ نہ ملا تو میں نے اپنی ساری جمع پونجی مختلف ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے خرچ کر دی تھی۔

قاضی نے اُس سے دوبارہ پوچھا کہ تم اُسے رقم کب واپس کرو گے، اُس آدمی نے قاضی کو جواب دیا، ’’میرے آقا چوبیس درہم جمع کرنے میں مجھے بارہ دن لگ جائیں گے، اور مجھے خدشہ ہے کہ بارہ دن بعد پھر یہ کہیں چلا نہ جائے، اس لیے اگر آپ اُسے بارہ دن کے لیے اپنے پاس قید کر دیں تو بہت اچھا ہوگا۔‘‘

خلیفہ یہ بات سن کر بہت ہنسا اور اس سے پوچھا: "اور پھر قاضی نے کیا کیا؟!”

اس آدمی نے جواب دیا، "قاضی نے مجھے بارہ دن کے لیے قید کرنے کا حکم دیا، تاکہ میں اپنی رقم بروقت واپس لے سکوں، میں ہی شکایت کرنے والا تھا اور اپنی رقم کا تقاضا کرنے پر قید کاٹنے والا بھی میں ہی تھا۔”

خلیفہ اس قصے پر خوب ہنسا اور اس کے بعد وہاں کے حاکم اور قاضی کو برطرف کرنے کا حکم دے دیا۔

(ماخذ: عربی قصائص، مترجم: توقیر بھملہ)

Comments

یہ بھی پڑھیں