spot_img

تازہ ترین

کراچی میں موسلا دھار بارش کا کوئی امکان نہیں، چیف میٹرولوجسٹ

چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز نے کہا ہے کہ کراچی...

ایاز صادق قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب

مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صدیق قومی اسمبلی...

کمالیہ: بارش میں گھر کی چھت گر گئی، ماں باپ اور بیٹا جاں بحق

کمالیہ کے علاقے فاضل دیوان میں مسلسل اور تیز...

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا

نگراں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے...

بہادر شاہ ظفر کے ہاتھی کی نیلامی اور موت کا قصہ

سات نومبر 1862 کو بہادر شاہ ظفر نے میانمار کے شہر رنگون کے ایک خستہ حال مکان میں آخری سانس تھی اور یہ ہندوستان کے آخری مغل شہنشاہ کا درد ناک اور نہایت خجالت آمیز انجام تھا۔ اس خاندان کے بادشاہوں نے کبھی اس خطے پر صدیوں تک شان و شوکت سے راج کیا تھا۔ لیکن پھر وقت نے کروٹ بدلی اور تاج و تخت سب ہاتھ سے نکل گیا۔

یہاں ہم محبوب اللہ مجیب کی کتاب مغل تہذیب سے اس ہاتھی کی درد ناک موت کا قصہ نقل کررہے ہیں جسے بادشاہ کی سواری کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ ابتدائی پیرا کے بعد مصنف نے اس واقعے کو سید ظہیر الدین حسین کی زبانی بیان کیا ہے جن کا وطن دہلی اور سنہ پیدائش 1825ء بتایا جاتا ہے۔ وہ نثر نگار اور شاعر تھے۔ انھوں نے شاہی ہاتھی کا یہ تذکرہ اپنی کتاب طرازِ ظہیری میں کیا ہے۔

"بہادر شاہ ظفر کے زمانے میں مولا بخش نام کا ایک ہاتھی تھا۔ اس نے کئی بادشاہوں کو سواری بھی دی تھی اور بزمِ آخر کا تماشا دیکھنے کے لیے ابھی زندہ تھا۔ اس ہاتھی کی بہت ساری خصوصیات انسانوں جیسی تھیں۔ جب بادشاہِ وقت بہادر شاہ ظفر کو اس کی سواری درکار ہوتی تو وہ ایک حکم نامہ لکھ بھیجتے تھے۔ شاہی چوبدار بادشاہ کا یہ حکم نامہ لے کر اس کے پاس جاتا تھا۔ اور حکمِ شاہی سناتا تھا۔ وہ کھڑا ہوتا تھا اور سلامی دیتا تھا۔ سواری سے ایک دن پہلے وہ دریا جاکر خوب نہاتا تھا۔ اور اپنے آپ کو صاف کرتا۔ پھر بادشاہ کی سواری میں جاتا۔ یہ تو اس وقت کی کہانی تھی جب شمع خموش نہیں ہوئی تھی۔ اور اب اس وقت کی کہانی ہے جب ایک شمع رہ گئی تھی۔ سو وہ بھی خموش ہے۔ مولا بخش ہاتھی نے غم کے مارے کھانا پینا چھوڑ دیا۔ اور اداس و غمگین رہنے لگا۔ اب اس کے آگے آپ ظہیر ہی کی زبانی سنیے۔”

"جب فیل خانہ شاہی پر انگریزی کا قبضہ ہوگیا تو مولا بخش ہاتھی نے دانہ پانی چھوڑ دیا۔ مولا بخش ہاتھی کے فیل بان نے جاکر سانڈرس صاحب کو اطلاع دی کہ ہاتھی نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے۔ کل کلاں کو نیکی بدی ہوجائے گی تو سرکار مجھے پھانسی دے گی۔ سانڈرس صاحب کو باور نہ آیا۔ فیل بان کو گالیاں‌ دیں‌ اور کہاکہ ہم چل کر خود کھلوائیں‌ گے۔ اور پانچ روپے کے لڈّو اور کچوریاں‌ ہمراہ لے کر ہاتھی کے تھان پر پہنچے اور ٹوکرا شیرنی کا ہاتھی کے آگے رکھوایا۔ ہاتھی نے جھّلا کر ٹوکرا کھینچ مارا۔ اگر کسی عام آدمی کو لگتا تمام ہوجاتا۔ وہ ٹوکرا دور جاگرا اور تمام شیرنی بکھر گئی۔ سانڈرس صاحب بولے، ہاتھی باغی ہے، اسے نیلام کردو۔
اسی روز صدر بازار میں لاکر نیلام کی بولی بولی۔ کوئی خریدار نہ ہوا۔”

"بنسی پنساری یک چشم جس کی دکان کھاری باؤلی میں‌ تھی، اس نے ڈھائی سو روپے کی بولی دی۔ اسی بولی پر صاحب نے نیلام ختم کر دیا۔ فیل بان نے ہاتھی سے کہا کہ لے بھائی، تمام عمر تُو نے اور میں نے بادشاہوں کی نوکری کی اور اب میری اور تیری تقدیر پھوٹ گئی کہ ہلدی کی گرہ بیچنے والے کے دروازے پر چلنا پڑا۔ یہ سنتے ہی ہاتھی پورے قد سے ویسی ہی دھم زمین پر گر پڑا اور جاں بحق ہوگیا۔”

مجیب صاحب نے جن کی زبانی نیلامی کا یہ قصہ پیش کیا ہے، ان کا تخلص ظہیر تھا اور والد ان کے خوش نویس اور بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے استاد تھے۔ کہتے ہیں کہ ظہیر کی زندگی کا بارھواں برس تھا جب وہ فارسی کی درسی کتابیں اور عربی کی چند ابتدائی کتابیں پڑھ پائے تھے کہ شاہی دربار میں نوکر ہوگئے۔ ظہیر ترقی کرکے بہادر شاہ ظفر کے داروغۂ ماہی و مراتب مقرر ہوئے اور راقم الدولہ خطاب پایا۔

Comments

- Advertisement -