The news is by your side.

Advertisement

کمسن بچی سے زیادتی کے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد

4 سالہ بچی کے بیان پر انحصار نہیں کیا جا سکتا: ملزم کی وکیل کا مؤقف

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے 4 سالہ بچی سے زیادتی کے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کردی، ملزم کی وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ 4 سالہ بچی کے بیان پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں 4 سالہ بچی سے زیادتی کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔

جسٹس سردار طارق نے دریافت کیا کہ ملزم کی شناخت پریڈ کیوں نہیں کی گئی، اے جی اسلام آباد نے بتایا کہ ملزم نامزد ہونے کی وجہ سے شناخت پریڈ نہیں کی گئی۔

ملزم کی وکیل تہمینہ محب اللہ نے کہا کہ یہ مزید انکوائری کا کیس ہے، کیس میں مزید ڈی این ایز کی تفصیلات نہیں دی گئیں، 4 سالہ بچی کے بیان پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بہتر ہوگا درخواست واپس لی جائے ورنہ ٹرائل پر اثر ہوگا۔ بعد ازاں عدالت نے درخواست ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر مسترد کردی۔

خیال رہے کہ ملزم عباس عرف چیکو پر 4 سالہ بچی سے زیادتی کا الزام تھا، ملزم کے خلاف تھانہ بارہ کہو میں مقدمہ درج ہوا تھا۔

اس سے 2 روز قبل ہی راولپنڈی سے بچوں سے زیادتی اور لائیو ویڈیو چلانے والے عالمی گینگ کے سرغنہ کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ ملزم سہیل ایاز عرف علی بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے پر برطانیہ میں بھی سزا کاٹ چکا ہے، ملزم کو برطانوی حکومت نے اسی جرم میں بے دخل کیا تھا۔

سی پی او فیصل رانا کے مطابق ملزم اٹلی میں بھی بچوں سے زیادتی کے مقدمات میں ٹرائل بھگت چکا ہے جس کے بعد اٹلی سے بھی ملزم کو بے دخل کیا گیا۔ یہاں تھانہ روات کی حدود میں ملزم نے محنت کش بچے کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور بچے سے زیادتی کی ویڈیو بھی بنائی۔

فیصل رانا کے مطابق ملزم نے پاکستان میں 30 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف کیا، ملزم برطانیہ میں بچوں کے تحفظ کے ادارے میں ملازمت کرتا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں