اسحاق ڈار کےقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار -
The news is by your side.

Advertisement

اسحاق ڈار کےقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار

اسلام آباد : احتساب عدالت نے وفاقی وزیرخزانہ اسحاق کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کو برقرار رکھا ہے جبکہ ریفرنس کی سماعت 8 نومبر تک ملتوی کردی۔

تفصیلات کےمطابق احتساب عدالت کے جج محمد بشیر وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت ہوئی تاہم وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور ان کے وکیل خواجہ حارث بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

خواجہ حارث کی معاون وکیل عائشہ حامد نے سماعت کے آغاز پر عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار اور خواجہ حارث لندن میں موجود ہیں۔

عائشہ حامد کی جانب سے وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پیش کی گئی اور ان کا میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔

اسحاق ڈار کی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کی 3 نومبر کو اینجیوگرافی ہونی ہے جس کے لیے وہ لندن میں موجود ہیں۔ عائشہ حامد نے کہا کہ اسحاق ڈار5 منٹ سےزیادہ نہیں چل سکتے۔

دوسری جانب نیب کی جانب سے وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے نا قابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے کی استدعا کی گئی۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ اسحاق ڈار کو کوئی اتنی بڑی بیماری نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مفتی عبدالقوی کی اینجیوگرافی بھی پاکستان میں ہوئی ہے۔

پراسیکیوٹرنیب نے کہا کہ وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈارکا علاج پاکستان میں بھی ہوسکتا ہے۔

اسحاق ڈار کے ضامن نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار لندن میں زیرعلاج ہیں جس پر عدالت نے انہیں ہدایت کی وہ یہ بیان تحریری طور پر جمع کرائیں۔

احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے اور ریفرنس کی سماعت 8 نومبر تک ملتوی کردی۔


اسحاق ڈارکے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری


خیال رہے کہ گزشتہ سماعت پر وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کے موکل طبی معائنے کے لیے لندن میں موجود ہیں اس لیے حاضری سے اسثنیٰ دیا جائے۔

نیب پراسیکیوٹر نے استثنیٰ کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری کی استدعا کی تھی۔

عدالت نے نیب کی جانب سے وارنٹ گرفتاری کی درخواست منظور کرتے ہوئے اسحاق ڈار کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے اسحاق ڈار کو 2 نومبر تک پیش ہونے کا حکم دے دیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں