The news is by your side.

Advertisement

بخت خاں، ایک بہادر اور نڈر سپاہی

1857 میں جب ہندوستانیوں کے دلوں میں پکتا ہوا لاوا شعلۂ جوالا بن کر پھوٹا تو ہر شخص سر پر کفن باندھ کر اس لڑائی میں حصّہ لینے کے لیے کود پڑا۔

اس لڑائی کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں بادشاہ، علما، بوڑھے، جوان، مرد و عورت سبھی انگریزوں سے آر پار کی جنگ کرنے کو اٹھ کھڑے ہوئے اور شجاعت اور بہادری کی وہ مثالیں پیش کیں جو تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ 1857 کی جنگ آزادی میں جن لوگوں نے قیادت کی ذمے داریاں سنبھالیں ان میں بخت خاں کا نام منارۂ نور کی حیثیت رکھتا ہے۔

بخت خاں کو جنگ آزادی میں شمولیت کی ترغیب مولانا سرفراز علی گورکھپوری نے دی جو گورکھپور کے سوداگر محلے کے رہنے والے تھے۔ سرفراز علی جنگ آزادی کے نمائندہ قائدین میں سے تھے۔ بخت خاں پہلے انگریزوں کی فوج میں صوبیدار تھے۔ بریلی سے بخت خاں تحریک میں حصّہ لینے کے لیے جب دہلی پہنچے تو ان کے ساتھ سو علما بھی تھے جن کی رہنمائی سرفراز علی گورکھپوری کر رہے تھے۔ مراد آباد کی پلٹن نمبر29 بھی ان کے ساتھ تھی۔ ان کا دہلی آنا بہادر شاہ کے لیے نیک شگون ثابت ہوا۔ بہادر شاہ نے انھیں انقلابی فوجوں کی کمان سونپ دی۔

جس وقت وہ دہلی پہنچے تو بہادر شاہ نے ان کے استقبال کے لیے احمد قلی خاں کو بھیجا۔ ان کے ہمراہ حکیم احسن اللہ خاں، ابراہیم خاں جنرل صمد خاں، غلام علی خاں اور چند افسر بھی موجود تھے۔ بخت خاں نے دہلی آنے کے بعد تحریک میں تیزی لانے کے لیے ایک فتویٰ جہاد مرتب کرایا۔ ساتھ ہی انھوں نے ایک حلف نامہ بھی تقسیم کرایا جن پر سات آٹھ ہزار سپاہیوں سے عہد لیا گیا کہ وہ آخر دم تک انگریزوں سے لڑیں گے۔ وہ اپنے ساتھ چار لاکھ خزانہ بھی لائے تھے اور جو فوج ان کے ہمراہ آئی تھی اس کو وہ چھ ماہ کی تنخواہ پیشگی دے چکے تھے۔

بخت خاں نے قیادت کی کمان سنبھالنے کی بعد بہت سے اہم فیصلے کیے، شہر میں امن و امان کی فضا بحال کرنے کی کوشش کی، کوتوال کو یہ واضح کردیا کہ بد امنی اور لاقانونیت کو کسی طرح برداشت نہیں کیا جائے گا اور اگر انھوں نے لاپروائی کی تو وہ بھی سزا کے حق دار ہوں گے۔ لوٹ مار میں ملوث شہزادوں اور مہاجنوں پر قدغن لگائی۔ شکر اور نمک کے محصول کو معاف کرایا۔ کیونکہ ان سے عام انسانی زندگی متاثر ہوتی تھی، فوج کو نئے سرے سے درست کیا۔ بچھڑا پلٹن کے نام سے ایک نئی پلٹن کی تشکیل کی جس نے کئی مورچوں پر انگریزوں سے سخت مقابلہ کر کے انھیں مشکل میں ڈال دیا۔

بخت خاں ایک بہادر اور نڈر سپاہی تھے۔ انھوں نے اپنی آخری سانس تک دہلی کو بچائے رکھنے کی کوشش کی مختلف مورچوں پر شریک ہوئے اور وہاں کامیابی کے جھنڈے گاڑے جس کی تصدیق اس عہد کے بیشتر وقائع نگاروں نے کی ہے۔

بخت خاں مورچے میں مصروف تھے کہ انھیں خبر ملی بہادر شاہ نے قلعہ چھوڑ کر ہمایوں کے مقبرے میں جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس خبر نے انھیں بے چین کر دیا۔ وہ اسی رات بہادر شاہ کے پاس گئے اور کہا کہ حالات بے شک نازک ہیں، انگریز شہر پر قابض ہو گئے ہیں، انھوں نے قلعہ بھی لے لیا ہے لیکن ابھی پورا ملک ہماری طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے اور آپ کے نام سے جنگ جاری رکھی جا سکتی ہے۔ آپ ہمارے ساتھ چلیں، ہم محفوظ مقامات سے انگریزوں سے جنگ جاری رکھیں گے، آدمی رسد اور ہتھیار فراہم کرنے کی ذمے داری ہماری ہوگی۔ بخت خاں کی تقریر کا بہادر شاہ پر اثر بھی ہوا۔

اس دوران انگریزوں کا جاسوس اور ایجنٹ الٰہی بخش جو بہادر شاہ کا سمدھی بھی تھا، بہادر شاہ کو شیشے میں اتار چکا تھا۔ بہادر شاہ نے اپنی صحت اور ضعیف العمری کا حوالہ دے کر بخت خاں سے معذرت کر لی اور کہا کہ اب مجھے میرے حال پر چھوڑ دو اور تم خود ہندوستان کی لاج رکھ لو اور اپنے فرض کو انجام دو۔ لیکن بعد میں حالات بدلتے چلے گئے اور بادشاہ کی گرفتاری اورانگریزوں کے قبضے کے بعد بخت خاں نیپال کی طرف چلے گئے۔ کہتے ہیں کہ وہ ایک معرکے میں مارے گئے اور یہ بھی راویت ہے کہ وہ اپنے آبائی وطن بنیر ضلع سوات زخمی حالت میں پہنچ گئے تھے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔ لیکن اس بات میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں کہ انگریز اپنے ازلی دشمن کو پکڑنے میں ناکام رہے۔ ہندوستان کی تحریک آزادی کے رہنماؤں میں بخت خاں کا مرتبہ بہت بلند ہے۔

(تاریخی کتب سے اقتباسات)

Comments

یہ بھی پڑھیں