The news is by your side.

Advertisement

بلدیہ فیکٹری کا مقدمہ آخری مرحلے میں داخل ہوگیا

کراچی: بلدیہ ٹاؤن کراچی کی فیکٹری میں ڈھائی سو افراد کو زندہ جلانےکا مقدمہ حتمی مرحلے میں داخل ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق بلدیہ فیکٹری کیس سے متعلق ہونے آج ہونے والی سماعت میں انسداد دہشت گردی عدالت نے اٹھائیس اکتوبر کو مقدمے کے آخری گواہ کو طلب کرلیا۔

آج سماعت کے دوران جیل حکام نے مرکزی ملزم رحمان بھولا اور زبیرچریا کو عدالت میں پیش کیا، اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر ساجد محبوب اور ایس ایس پی ساجدسدوزئی بھی پیش ہوئے۔

ایس ایس پی ساجد سد وزئی کے بیان پر وکلائے صفائی نے جرح مکمل کرلی، اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کے مطابق مقدمہ حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، اب تک تین سو ننانوے گواہوں کے بیانات قلمبند کئے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ سماعت میں تفتیشی افسر انسپکٹر جہانزیب نے بلدیہ فیکٹری مقدمے سے متعلق فرانزک رپورٹس عدالت میں پیش کی تھیں۔

خیال رہے کہ 19 ستمبر کو ہونے والی سماعت میں فیکٹری مالک ارشد بھائیلہ نے اے ٹی سی میں بذریعہ اسکائپ بیان ریکارڈ کراتے ہوئے سنسنی خیز انکشافات کیے تھے۔

سانحہ بلدیہ فیکٹری کو7سال ہوگئے، لواحقین آج بھی انصاف کے منتظر

ارشد بھائیلہ کا کہنا تھا کہ فیکٹری ملازم منصور نے ایم کیو ایم سے معاملات طے کرائے تھے، 2012 میں حماد صدیقی نے 25 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا، ملزم رحمان بھولا نے دھمکی دی 25 کروڑ دو یا پارٹنر شپ کرو۔

واضح رہے گیارہ ستمبر2012 کو کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں آتشزدگی کا خوفناک واقعہ پیش آیا تھا، جس کے نتیجے میں خواتین سمیت دو سو ساٹھ مزدور زندہ جل گئے تھے، بعد میں انکشاف ہوا تھا کہ ایک سیاسی جماعت نے بھتہ نہ ملنے پر فیکٹری کو آگ لگائی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں