The news is by your side.

Advertisement

عالمگیر مسجد: درجنوں مندروں کے درمیان گنگا جمنی تہذیب کی علامت

آپ نے ‘گنگا جمنی تہذیب کی اصطلاح تو سن رکھی ہو گی۔ یہ شمالی ہندوستان اور بالخصوص مشہور دریا گنگا اور جمنا کے دو آبہ علاقے کی تہذیب اور ثقافت کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ ہندو مسلم مذہبی ہم آہنگی اور رواداری اس تہذیب کا خاصا ہے۔

بھارت کے شہر بنارس کا نام بھی آپ نے سن رکھا ہو گا جو اب وارانسی کہلاتا ہے۔ یہاں‌ مغل شہنشاہ عالم گیر سے موسوم مسجد گنگا جَل کے کنارے موجود ہے۔

اس مسجد کا طرزِ تعمیر اور اس کی تاریخی حیثیت اپنی جگہ ضرور اہم ہے، لیکن یہ جان کر آپ کو زیادہ حیرت ہو گی کہ یہاں‌ ہر طرف مندر موجود ہیں جب کہ یہاں‌ متبرک و مقدس گنگا پر اشنان کے لیے آنے والے ہندوؤں کی بڑی تعداد نظر آتی ہے۔ کبھی یہاں‌ مندر کے ناقوس بھی بجا کرتے تھے اور اذان کی آواز بھی بلند ہوا کرتی تھی، لیکن آج یہ مسجد کو محکمہ آثارِ قدیمہ کی تحویل میں ہے اور اسی شان و شوکت اور رواداری کی علامت کے طور پر قائم ہے جو ماضی ہو چکا ہے۔

اگرچہ بھارت میں‌ انتہا پسندی اور مذہبی جنونی اس مسجد کے بارے میں‌ بھی یہی پروپیگنڈا کرتے ہیں‌ کہ یہ ایک مندر کے کھنڈر پر تعمیر کی گئی تھی، لیکن اسے مندروں کے درمیان مذہبی رواداری اور ہندومسلم اتحاد کی علامت بھی کہا جاتا ہے۔

اس مسجد کے اردگرد درجنوں مندر ہیں۔ یہاں کئی گھاٹ بھی ہیں جن کی تاریخی حیثیت مسلّم ہے۔

وارانسی(بنارس) ایک تاریخی شہر ہے جو دریائے گنگا کے کنارے آباد ہے۔ یہاں مختلف علاقوں‌ میں ہزاروں مندر ہیں اور اشنان کے لیے ہر سال یہاں لاکھوں ہندو یاتری آتے ہیں، جب کہ دنیا بھر کے سیّاح اس شہر کی تہذیب اور مٹتے ہوئے آثار کو دیکھنے کے لیے بھی یہاں‌ کا رخ‌ کرتے ہیں۔

عظیم شاعر مرزا غالب بھی کبھی بنارس آئے تھے اور اس شہر کی اپنی مثنوی میں‌ تعریف کی تھی۔

یہ شہر گنگا جمنی تہذیب کے لیے بھی پہچان رکھتا ہے جس کی ایک مثال عالمگیر مسجد ہے۔ اورنگزیب عالمگیر کی تعمیر کردہ یہ چھوٹی سی مسجد مغل دور کے طرزِ تعمیر کا حسین نمونہ ہے۔ اسے ماہرین فنی لحاظ سے بے مثال قرار دیتے ہیں۔ مسجد کی تعمیر میں فن کارانہ نزاکتوں کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ اس کی دیواروں پر سجاوٹ کے لیے پھول پتیاں بنائی گئی ہیں‌ جو بہت دل کش نظر آتی ہیں۔

وقت کے ساتھ اس کا حسن ماند ضرور پڑا ہے اور دیواروں‌ اور محراب پر کیا گیا کام بھی متاثر ہوا ہے جب کہ اس کے مینار ٹوٹ چکے ہیں۔ ایک مینار 1956ء میں اور دوسرا 1958ء میں ٹوٹ گیا تھا۔ اب یہ مینار صرف تصاویر میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

تاریخی روایات کے مطابق اس مقام پر بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر نے نمازا دا کی تھی جس کے بعد یہاں یادگار کے طور پر مسجد بنائی گئی تھی۔ یہ مسجد 1663ء میں تعمیر کی گئی تھی۔

گنبد، محرابوں اور دیوار پر کیے گئے کام کے علاوہ مسجد کا حُسن بڑھانے اور نمازیوں کو وضو کی سہولت دینے کے لیے اس کے صحن میں ایک چھوٹا حوض بھی بنایا گیا تھا جس کے بیچ ایک فوّارہ بھی تھا۔

آج اگرچہ یہ مسجد خستہ حال اور اس کا وجود شدید خطرے میں‌ ہے، لیکن اس پر نظر ڈالنے والے بنارس کے شان دار ماضی کی جھلک اور اس میں گنگا جمنی تہذیب کا عکس ضرور دیکھ سکتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں