The news is by your side.

Advertisement

بنگلہ دیش میں صوفی بزرگ مذہبی شدت پسندوں کے ہاتھوں قتل

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے شمال مغربی قصبے میں ایک صوفی بزرگ کو مبینہ طور پر مذہبی شدت پسندوں نے قتل کردیا ہے، دو ہفتے قبل داعش نے اسی قصبے میں ایک روشن خیال پروفیسر کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

پولیس کے مطابق محمد صلاح الدین نامی 65 سالہ صوفی بزرگ جمعے کی صبح سے لاپتہ تھے اور گزشتہ سال ان کی خون آلود لاش راج شاہی کے آم کے جھنڈ سے برآمد ہوئی تھی۔

راج شاہی پولیس چیف نشارالعارف کے مطابق صلاح الدین کوئی نامور شخصیت نہیں تھے تاہم شبہ ہے کہ ان کا قتل مذہبی شدت پسندوں نے کیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ قتل بھی اسی طریقہ کار سے کیا گیا ہے جیسے کہ ملک میں پہلے مذہبی اقلیتوں کے قتل کیے گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق صوفی صلاح الدین کے خاصی تعداد میں مرید ہیں، انہیں ذبح کرکے قتل کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اسلامی شدت پسندحالیہ سالوں میں درجنوں کی تعداد میں روشن خیال افراد، بلاگرز اور مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والوں کو قتل کرچکے ہیں جن میں صوفی، شیعہ ، احمدی، ہندو اور مسیحی شامل ہیں۔

گزشتہ پانچ ہفتوں میں دو ہم جنس پرستوں کو، ایک روشن خیال پروفیسر، ایک سماجی رہنما اور ایک ہندو ٹیلر مبینہ طور پر اسلامی شدت پسندوں کے ہاتھوں قتل ہوچکے ہیں۔

مذکورہ بالا قتل کی وارداتوں میں سے کچھ کی ذمہ داری داعش اور القاعدہ کی مقامی تنظیم نے قبول کی ہے تاہم حکومت نے بنگلہ دیش میں ان گروہوں کی موجودگی کی تردید کی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں